آنکھ کے قرنیہ کی بیماری، جس میں نظر دھندلی ہو جاتی ہے، کے علاج میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے، امریکی دوا ساز کمپنی نے کہا ہے کہ بغیر آپریشن ایک بار علاج کے اثرات 3 سال تک برقرار رہتے ہیں۔
روئٹرز کے مطابق امریکی کمپنی گلاؤکوس کا کہنا ہے کہ کیراٹوکونس (Keratoconus) نامی قرنیے کی بیماری کے علاج کے لیے تیار کی جانے والی دوا ایپی اوکسا (Epioxa) سے ایک مرتبہ علاج کے فوائد تین سال بعد بھی برقرار رہے۔
کیراٹوکونس آنکھ کے سامنے موجود شفاف حصے، یعنی قرنیے کی ایک بیماری ہے جس میں قرنیہ اپنی معمول کی گول شکل برقرار رکھنے کی بجائے آہستہ آہستہ مخروطی شکل میں باہر کی طرف ابھرنے لگتا ہے۔ اس کے نتیجے میں روشنی آنکھ میں درست طور پر مرکوز نہیں ہو پاتی اور نظر دھندلی یا غیر واضح ہونے لگتی ہے۔ بیماری بڑھنے کی صورت میں بعض مریضوں کو بالآخر قرنیے کی پیوند کاری کی ضرورت بھی پڑ سکتی ہے۔
گلاؤکوس کے مطابق ایپی اوکسا کے ایک مرتبہ استعمال کے بعد مریضوں میں بینائی اور قرنیے کی شکل میں آنے والی بہتری تین سال تک برقرار رہی اور اس عرصے کے دوران اضافی علاج کی ضرورت نہیں پڑی۔
رجسٹرڈ کلینکس پر بغیر لائسنس ادویات کی سیل پر پابندی عائد
کمپنی نے بتایا کہ تحقیق میں شامل آنکھوں میں قرنیے کے زیادہ سے زیادہ خم میں اوسطاً 1.9 ڈائیوپٹر (Diopter) کی بہتری دیکھی گئی۔ ڈائیوپٹر وہ پیمانہ ہے جس سے آنکھ کے عدسے اور بصری نظام کی طاقت یا قرنیے کے خم کو بیان کیا جاتا ہے۔
تحقیق میں 35 مریضوں کی 38 آنکھوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 92 فیصد مریض تین سالہ جائزے تک تحقیق میں شامل رہے۔
بینائی کے نتائج میں بھی بہتری سامنے آئی۔ تقریباً 29 فی صد مریضوں کی بینائی میں معیاری بینائی چارٹ پر کم از کم 2 لائنوں کی بہتری ہوئی، جب کہ 20 فی صد مریضوں نے کم از کم 3 لائنوں کی بہتری حاصل کی۔
کمپنی گلاؤکوس کے مطابق ایپی اوکسا کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس طریقۂ علاج میں قرنیے کی اوپری حفاظتی تہہ کو ہٹانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ اس وجہ سے کمپنی اسے قرنیے کے علاج کے بعض روایتی طریقوں کے مقابلے میں کم مداخلت والا طریقہ قرار دیتی ہے۔
کیراٹوکونس عام طور پر نوجوانی یا ابتدائی جوانی میں شروع ہوتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ سکتا ہے۔ بیماری کے بڑھنے سے بینائی متاثر ہوتی ہے اور بعض شدید صورتوں میں قرنیہ اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ پیوند کاری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
تحقیق کے دوران علاج سے متعلق کوئی سنگین منفی طبی اثر رپورٹ نہیں ہوا اور کسی مریض نے منفی اثرات کی وجہ سے علاج بند نہیں کیا۔
گلاؤکوس کے مطابق تین سال کے نتائج اس بات کی حوصلہ افزا علامت ہیں کہ ایپی اوکسا کی ایک مرتبہ دی جانے والی خوراک سے قرنیے کی ساخت اور بینائی میں حاصل ہونے والے فوائد طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں۔



