آس پاس کوئی ایسا فرد جس میں ذہنی دباؤ کی علامات نظر آئیں، تو اس کے کام کے ساتھی، والدین، فیملی اور دوست فوری طور پر ایسا کیا کریں، کہ اُس کی تکلیف اور سٹگما (معاشرتی بدنامی) کو کاؤنٹر کیا جا سکے؟
آغا خان یونیورسٹی اسپتال شعبہ نفسیات کے سینئر انسٹرکٹر ڈاکٹر محمد حمزہ عتیق اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس میں یہ دیکھنا چاہیے کہ آپ کس مقام پر ہیں، جیسے کہ اگر ورک پلیس پر آپ اپنے کولیگ کو کچھ الگ محسوس کر رہے ہیں، آپ دیکھ رہے ہیں کہ وہ پہلے سے کچھ مختلف محسوس ہو رہا ہے تو آپ پہلے یہ دیکھیں کہ آپ کا ان کے ساتھ رشتہ کیسا ہے، کیا اتنے قریب ہیں کہ آپ ان سے وہ بات کر سکیں۔
انھوں نے کہا اگر آپ کو محسوس ہو رہا ہے کہ آپ کے کو ورکر کا موڈ تھوڑا چڑچڑا ہو گیا ہے، یا وہ بات کرتے کرتے جلدی غصہ کرنے لگتے ہیں، یا اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ وہ پہلے بہت بات کیا کرتے تھے اور اب بہت خاموش اور اکیلے اکیلے رہنے لگ گئے ہیں تو یہ کچھ تبدیلیاں ہیں جنھیں آپ نے شناخت کرنا ہے۔
ڈاکٹر عتیق کے مطابق اگر آپ کا قریبی تعلق ہے تو آپ ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ ’’مجھے لگ رہا ہے کہ آپ کا رویہ پچھلے کچھ دنوں سے کچھ مختلف نظر آ رہا ہے، کیا سب خیریت سے ہے؟‘‘
ویڈیو رپورٹ: پاکستان میں ہر 4 میں سے ایک فرد ذہنی تناؤ کا شکار ہے
یہ ایک عام سوال ہے جو آپ کر سکتے ہیں، لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ آپ کو اس کے جواب میں کچھ بتا دے، اور ہو سکتا ہے وہ آپ کو نہ بتائے، لیکن ایک تو یہ کہ، آپ ان کو اپنی طرف سے موقع فراہم کریں گے کہ اگر وہ کچھ کہنا چاہیں تو آپ سے کہہ سکتا ہے، دوسرا یہ کہ اگر آپ کو کچھ زیادہ رسک محسوس ہو رہا ہے تو پھر آپ اپنے آفس کی کسی ہائیر اور متعلقہ اتھارٹی، کسی سینئر پرسن کو بتا دیں تاکہ وہ اس صورت حال کو زیادہ مؤثر طور سے ڈیل کر سکیں۔
اگر آپ گھریلو زندگی میں یا کسی فرینڈ سرکل میں ایسی کسی صورت حال سے دوچار ہو گئے ہیں، تب بھی آپ یہی ٹیکنیک استعمال کر سکتے ہیں۔ آپ جو تبدیلیاں نوٹ کر سکتے ہیں وہ یہی ہیں کہ یا تو انسان کے موڈ میں تبدیلی آئی ہوگی، چڑچڑاہٹ پیدا ہو گئی ہوگی، یا جو چیزیں وہ پہلے انجوائے کیا کرتے تھے اب صورت حال مختلف نظر آ رہی ہے کہ وہ اس چیز کو انجوائے نہیں کر پا رہے۔
ایسے موقع پر ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کو یہ نہیں سوچنا کہ یہ تو میرا دوست ہے مجھے ہی سمجھ نہیں پایا، یا یہ مجھے غصہ کیوں کر رہا ہے۔ بلکہ آپ کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہو سکتا ہے اس کو کسی مدد کی ضرورت ہو۔ آپ کے بات کرنے سے اگر وہ اپنی بری کیفیت سے نکل آئے تو پھر بعد میں اس سے اس بارے میں ذکر کر سکتے ہیں، اور یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر ضرورت ہے تو کسی نفسیات کے ڈاکٹر کے پاس رجوع کرنا چاہیے۔
اسی طرح جو آس پاس کے رشتے ہیں، ان کے اندر ایک ہم آہنگی پیدا ہوتی ہے اور بات چیت کا ذریعہ کھلتا ہے، تو وہ جو مسائل کو لے کر کوئی بھی انسان اپنے ذہن میں بہت زیادہ تکلیف محسوس کر رہا ہوتا ہے، اس کے اثرات محض بات کرنے کے ہی نتیجے میں کم ہو جاتے ہیں۔ تو یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کہیں ان کو کسی نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہ پیش نہ آئے اور محض آپ کی بات چیت سے اس کا ذہنی دباؤ ختم یا بہت کم ہو جائے۔



