عورت کی معاشی خود مختاری اور طلاق کے بڑھتے ہوئے رجحان کے درمیان تعلق محض جدید معاشرتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک تاریخی اور اقتصادی سفر کا حاصل ہے۔
اب رشتے کو نبھانے کے لیے صرف مالی مجبوری کافی نہیں رہی، بلکہ برابری، باہمی احترام اور جذباتی ہم آہنگی بنیادی شرط بن چکی ہے
اٹھارویں صدی کے وسط میں جب برطانیہ میں صنعتی انقلاب کا آغاز ہوا، تو پیداواری ضرورتوں کے پیشِ نظر عورتوں کی صلاحیتوں کو آزمانے کا خیال بھی آیا۔ کارخانوں اور ملوں میں ان امور کی انجام دہی اور ایسے کاموں کے لیے جن میں جسمانی مشقت کے بجائے باریک بینی اور مسلسل توجہ چاہیے تھی، عورتوں کو موقع دیا جانے لگا اور ان پر روزگار کے دروازے کھولے گئے۔ بعض مخصوص تکنیکی کاموں کے لیے خواتین کو تربیت بھی فراہم کی گئی۔ اس دوران ان کا جوش و خروش، محنت اور تیزی سے سیکھنے کی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے یہ احساس بیدار ہوا کہ عورتوں کو تعلیمی میدان میں بھی مردوں کے شانہ بشانہ لایا جائے، جس کے خاطر خواہ نتائج سامنے آئے، لیکن عورت کو معاش کی دوڑ میں شامل کرنے پر مختلف حلقوں کی آرا بٹی رہی اور معاشرے ذہنی تقسیم کا شکار ہوئے۔
بیسویں صدی میں پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے ہولناک واقعات نے انسانی تہذیب کا نقشہ بدل کر رکھ دیا۔ ان جنگوں میں لاکھوں مرد کام میں آئے، جس کے نتیجے میں مغربی معاشروں اور یورپ کی معیشت شدید بحران کا شکار ہو گئی۔ افرادی قوت کی اس اچانک اور بڑی کمی نے پہلی بار دنیا کو مجبور کیا کہ عورت کو اب گھر کی چار دیواری سے نکال کر فیکٹریوں، دفاتر، اسپتالوں اور صنعتی شعبوں میں لائے۔ جنگی دور کے اس ناگزیر معاشی دباؤ نے نہ صرف روزگار کے تصور کو بدلا بلکہ عورت کو پہلی بار باقاعدہ اجرتی محنت اور معاشی خودمختاری کا ذائقہ چکھایا، جس سے ان کی معاشرتی حیثیت میں ایک دائمی انقلاب کی بنیاد پڑی۔
تاریخی طور پر جب عورت کے پاس اپنا کوئی ذاتی مالی اثاثہ، تعلیم یا وراثت میں حصہ نہیں ہوتا تھا، تو اس کے لیے شادی صرف ایک جذباتی رشتہ نہیں بلکہ بقا کا بنیادی ذریعہ تھی۔ ماضی کی یہی معاشی بے بسی عورت کو ہر طرح کے حالات، زیادتی اور نامساعد رویوں کو جھیلنے پر مجبور رکھتی تھی، کیونکہ اس کے پاس واپس لوٹنے کا کوئی باوقار راستہ نہیں ہوتا تھا اور والدین کا گھر بھی ایک طعنہ بن جاتا تھا۔ تاہم، جنگوں کے بعد شروع ہونے والے معاشی انقلاب نے جب دنیا بھر میں تعلیم کے عام ہونے اور خواتین کے پیشہ ورانہ شعبوں میں قدم رکھنے کی راہ ہموار کی، تو صورتِ حال بدلنا شروع ہوئی۔ طب، تدریس، صحافت، انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کے میدانوں میں عورتوں کی شمولیت نے انہیں مالی طور پر مضبوط کیا، اور جب معاشی طور پر مردوں پر ان کا انحصار کم ہوتا چلا گیا تو رشتوں میں زبردستی کی مصالحت کی ضرورت بھی کم ہی محسوس کی جانے لگی۔ خود کفالت نے عورت کو یہ اعتماد بخشا کہ وہ ایک گھٹن زدہ یا غیر متوازن رشتے سے نکل کر بھی باعزّت زندگی گزار سکتی ہے، اور وہ نقطہ ہے جہاں سے طلاق کے اعداد و شمار میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے اس معاشی تبدیلی کو فکری اور جذباتی تحریک فراہم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز نے معلومات، انسانی حقوق کی آرا اور طرزِ زندگی کے تنوع کو گھر گھر پہنچا دیا ہے۔ اب کوئی بھی عورت خود کو ایک مخصوص کمرے یا شہر میں تنہا محسوس نہیں کرتی، بلکہ وہ دنیا بھر کے مختلف زاویہ ہائے فکر اور تجربات سے آگاہ رہتی ہے۔ سوشل میڈیا جہاں ایک طرف خواتین کو معاشی طور پر خود مختار ہونے کے نئے طریقے جیسے ڈیجیٹل مارکیٹنگ، فری لانسنگ اور ای کامرس سکھا رہا ہے، وہیں یہ انہیں اپنے ذاتی حقوق اور عزتِ نفس کا احساس بھی دلا رہا ہے۔ جب ایک معاشی طور پر خودمختار عورت سوشل میڈیا کے ذریعے یہ دیکھتی ہے کہ مصائب اور جذباتی تشدد کو برداشت کرنا زندگی کا لازمی حصہ نہیں ہے، تو اس میں آزادانہ فیصلے کرنے کا حوصلہ مزید بڑھتا ہے، جو بظاہر طلاق کے رجحان کو فروغ دیتا ہوا نظر آتا ہے۔
اگر اس پورے معاملے کا ایک معروضی تجزیہ کیا جائے تو عورت کی معاشی خودمختاری کا طلاق کے رجحان سے جڑا ہونا ہرگز اس بات کی دلیل نہیں کہ معاشی خودمختاری بذاتِ خود کوئی منفی چیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مالی انحصار ٹوٹنے سے وہ پردہ ہٹ گیا ہے جس نے صدیوں سے ناخوشگوار زندگی اور غیرمتوازن بندھن کو زبردستی قائم رکھا ہوا تھا۔ ماضی میں طلاق نہ ہونا ہمیشہ کسی خوشگوار اور کامیاب ازدواجی زندگی کی علامت نہیں تھا، بلکہ اکثر و بیشتر یہ ایک فریق کی معاشی بے بسی کا نتیجہ ہوتا تھا۔ آج اگر طلاق کا تناسب بڑھ رہا ہے تو اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ اب رشتے کو نبھانے کے لیے صرف مالی مجبوری کافی نہیں رہی، بلکہ برابری، باہمی احترام اور جذباتی ہم آہنگی بنیادی شرط بن چکی ہے۔ جب تک ہمارا معاشرہ معاشی طور پر مضبوط ہوتی ہوئی عورت کی اس نئی حیثیت اور اس کے حقوق کو سمجھ کر ازدواجی رشتے کے سانچے میں تبدیلی نہیں لائے گا، تب تک معاشی خودمختاری اور طلاق کے درمیان یہ دباؤ اور کشمکش اسی طرح جاری رہے گی۔



