لاہور (20 اکتوبر 2026): وزیر اطلاعات و نشریات پنجاب عظمیٰ بخاری نے ملتان میں قتل ہونے والے لڑکے کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ 19 اکتوبر کو کام کی جگہ پر وسیم عباس کے ساتھ بدسلوکی ہوئی تو وہ بھاگ نکلا۔
عظمیٰ بخاری نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ ملتان میں یتیم بچے وسیم عباس کو قتل کرنے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا جو ہر حساس دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے، خواتین اور بچے وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ریڈلائن ہیں، پنجاب میں ایسے جرائم کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔
صوبائی وزیر اطلاعات و نشریات نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز خود اس معاملے کو دیکھ رہی ہیں، وسیم عباس مظفر گڑھ کا رہائشی تھا والد بچپن میں ہی انتقال کر گئے تھے، اس کی والدہ نے جعفر نامی شخص سے دوسری شادی کی، مقتول کے تین بہن بھائی ہیں سب کو یتیم خانہ میں داخل کروایا گیا تھا، بہن 6 ماہ پہلے ڈسچارج ہو کر ماں کے پاس گئی جبکہ دوسرا بھائی اب بھی یتیم خانے میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وسیم کو روکنا چاہتا تھا، گرفتار ملزم توقیر کا بیان
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک ہفتہ قبل وسیم عباس کو ٹھیکیدار توقیر کے حوالے کیا گیا تاکہ الیکٹریکل کام سکھایا جائے، 19 اکتوبر کو کام کی جگہ پر اس کے ساتھ بدسلوکی ہوئی تو وہ بھاگ نکلا۔
ان کا کہنا تھا کہ کیس کے دوسرے ملزم امجد کے ٹھکانوں پر فیصل آباد میں پولیس چھاپے مار رہی ہے، پراسیکیوشن پولیس کے ساتھ مل کر مضبوط کیس تیار کر رہی ہے، ملزم توقیر اور اس کا ساتھی امجد کار میں اس کا پیچھا کرتے ہوئے تقریباً ایک کلومیٹر تک گئے، ملزمان نے وسیم عباس کو دیکھتے ہی گاڑی کے نیچے کچل کر ہلاک کر دیا۔



