آئینی عدم توازن: آرٹیکل 160 اور 140 اے….اختیارات کی منتقلی کی دو کہانیاں

0
2

پاکستان کے آئین میں اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی دو الگ کہانیاں ملتی ہیں۔ پہلی کہانی وفاق اور صوبوں کے تعلق کی ہے۔

یہاں آئین تفصیلی بھی ہے، ادارہ جاتی انتظام بھی فراہم کرتا ہے اور تحفظ بھی دیتا ہے۔ آرٹیکل 160 قومی مالیاتی کمیشن قائم کرنے، اس کی تشکیل اور ارکان کی نمائندگی کا تعین کرنے اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کے وقفے سے نیا کمیشن تشکیل دینے کا تقاضا کرتا ہے۔ یہ اس کی ذمہ داریاں متعین کرتا، سفارشات پر عملدرآمد کا طریقہ فراہم کرتا اور ان سفارشات سمیت ان پر کیے گئے اقدامات کو پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کے سامنے پیش کرنے کا پابند بناتا ہے۔ اٹھارہویں ترمیم نے اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر صوبوں کے حصے کو گزشتہ ایوارڈ سے کم ہونے سے تحفظ دیا اور عملدرآمد کی نگرانی بھی لازم قرار دی۔

دوسری کہانی صوبوں اور مقامی حکومتوں کے تعلق کی ہے۔ آرٹیکل 140 اے ہر صوبے کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومتوں کا نظام قائم کرے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات منتخب مقامی نمائندوں کو منتقل کرے۔ مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانا الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمہ داری ہے۔ آئینی حکم واضح ہے، لیکن آرٹیکل 160 کے مقابلے میں آرٹیکل 140 اے پر عمل یقینی بنانے کا ادارہ جاتی بندوبست نمایاں طور پر محدود ہے۔

یہ فرق اس لیے بھی اہم ہے کہ اٹھارہویں ترمیم نے دونوں دفعات کو موضوع بنایا تھا۔ اس نے آرٹیکل 160 کو مزید مضبوط کیا، جبکہ آرٹیکل 140 اے کو اس کی موجودہ شکل دی۔ یہی فرق پاکستان میں اختیارات کی نامکمل منتقلی کے بنیادی مسئلے کو سامنے لاتا ہے۔ آرٹیکل 160 محض وفاق کو صوبوں کے ساتھ وسائل بانٹنے کی ہدایت نہیں دیتا۔ یہ ایک کمیشن قائم کرتا، صوبائی نمائندگی یقینی بناتا، مقررہ وقفوں سے جاری رہنے والا عمل وضع کرتا، ذمہ داریاں متعین کرتا، عملدرآمد کا انتظام فراہم کرتا اور صوبوں کے حصے کو تحفظ دیتا ہے۔

اس کے برعکس آرٹیکل 140 اے مقامی حکومتوں کے بنیادی فرائض، مالی وسائل میں ان کے کم از کم حق، صوبائی مالیاتی کمیشنوں کی ساخت یا ان کی تشکیل کے وقفے کا تعین نہیں کرتا۔ نہ ہی یہ غیر جانب دارانہ معیار کے مطابق طے کیے گئے مقامی حصے کی خودکار منتقلی کا کوئی طریقہ مقرر کرتا ہے۔ ایک معاملے میں اختیارات کی منتقلی کو آئینی اداروں اور طریقۂ کار کا سہارا حاصل ہے۔ دوسرے میں اس کے عملی خدوخال کا بڑا حصہ صوبائی قانون سازی پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہی بنیادی عدم توازن ہے۔

صوبائی خودمختاری کی ضرورت اور اس کے حق میں دلائل واضح ہیں۔ پاکستان میں اختیارات کے مرکز میں مرتکز رہنے کی تاریخ نے صوبوں کے لیے قانون سازی، انتظام اور مالی معاملات میں زیادہ اختیار کے جائز مطالبات کو جنم دیا۔ اٹھارہویں ترمیم نے وفاقی بندوبست کو مضبوط کیا۔ لیکن اختیارات کی منتقلی کا عمل منطقی طور پر آدھے راستے پر نہیں رک سکتا۔ اگر صوبوں کو وفاق کے حد سے بڑھے ہوئے صوابدیدی اختیار سے تحفظ درکار تھا تو منتخب مقامی حکومتیں صوبائی صوابدید پر کہیں زیادہ انحصار کرنے پر کیوں مجبور رہیں؟ جس دلیل کی بنیاد پر اسلام آباد سے اختیارات صوبوں کو منتقل کیے گئے، وہی دلیل شہروں، اضلاع، قصبوں اور محلوں تک ان کی مزید منتقلی کی بھی حمایت کرتی ہے۔

جو اختیار اسلام آباد سے نکل کر لاہور، کراچی، پشاور یا کوئٹہ میں وزرائے اعلیٰ کے پاس مرتکز ہو جائے، اس کی نچلی سطح تک منتقلی صرف آدھی ہوئی ہے۔ یہ صوبوں کو کمزور کرنے کی دلیل نہیں، بلکہ اختیارات کی منتقلی کی آئینی منطق کو مکمل کرنے کا مطالبہ ہے۔ شہریوں کا حکومت سے سب سے براہِ راست واسطہ پانی، نکاسی آب، صفائی، کچرا اٹھانے، مقامی سڑکوں، ٹرانسپورٹ، زمین کے استعمال اور محلوں کی بنیادی سہولتوں کے ذریعے پڑتا ہے۔ اگر منتخب مقامی حکومتوں کے پاس ان خدمات کی فراہمی کے لیے ضروری امور، عملے اور مالی وسائل پر اختیار نہ ہو تو جواب دہی کی حدود دھندلا جاتی ہیں۔ اختیار کے بغیر ذمہ داری مایوسی پیدا کرتی ہے، جبکہ وسائل کے بغیر ذمہ داری محض کاغذی دعویٰ بن جاتی ہے۔

آرٹیکل 140 اے کے الفاظ یقیناً مضبوط ہیں اور عدالتوں نے بھی اسے محض نمائشی مقامی ادارے بنانے کی گنجائش کے بجائے ایک لازمی آئینی ذمہ داری قرار دیا ہے۔ مشکل ان معاملات میں پیدا ہوتی ہے جن پر آئین خاموش ہے۔ یہ کون طے کرے گا کہ کون سے بنیادی کام لازماً مقامی حکومتوں کے پاس رہیں گے؟ مالی وسائل میں ان کے کس حصے کو تحفظ حاصل ہوگا؟ صوبائی مالیاتی کمیشن کتنے وقفے سے قائم کیا جائے گا؟ اگر ایوارڈ میں تاخیر ہو تو کیا ہوگا؟ مقامی حکومتوں کا حصہ طے ہو جانے کے بعد بھی کیا اس کا اجرا صوبائی انتظامیہ کی صوابدید پر منحصر رہے گا؟ مقامی اداروں کو بار بار تنظیم نو یا کمزور کیے جانے سے کیا چیز محفوظ رکھے گی؟ انہی سوالات کے جواب طے کرتے ہیں کہ اختیارات کی منتقلی ایک قابلِ نفاذ آئینی بندوبست ہے یا محض ایک وسیع اصول، جس کی عملی صورت صوبائی قوانین اور سیاسی حالات کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔

آرٹیکل 160 سے موازنہ اس معاملے کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ آئین نے یہ فرض نہیں کیا کہ صوبوں کے حق کا اعلان کافی ہوگا۔ اس نے اس حق کے گرد ایک پورا نظام بنایا، ادارے، نمائندگی، مقررہ وقفے، عملدرآمد اور تحفظات۔ وفاق کے مقابلے میں صوبوں کے تحفظ کو جس وضاحت سے یقینی بنایا گیا، صوبوں کے مقابلے میں مقامی حکومتوں کو ویسا تحفظ نہیں دیا گیا۔ یہی آئینی خلا ہے۔ایک مضبوط نظام کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد مقامی حکومتوں کا انتظام سنبھال لے یا کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور چھوٹے اضلاع پر ایک جیسا ڈھانچا مسلط کر دیا جائے۔ جغرافیے، آبادی اور شہری پھیلاؤ کے لحاظ سے مقامی حکومتوں کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں۔

تاہم یہ لچک ایک ایسی کم از کم حد کے اندر ہونی چاہیے جسے آئینی تحفظ حاصل ہو۔ اس میں بروقت انتخابات اور منتخب اداروں کی مدت کا تحفظ، بنیادی مقامی امور کا تعین، ان امور کی انجام دہی کے لیے درکار عملے پر انتظامی اختیار، صوبائی مالیاتی کمیشنوں کے قیام کی آئینی پابندی، باقاعدہ مالیاتی ایوارڈ اور مقامی حصے کی منتقلی کا قابلِ نفاذ طریقہ شامل ہو سکتا ہے۔ آئین کم از کم تقاضے طے کرے، جبکہ ان سے آگے نظام کی تشکیل میں صوبوں کو آزادی حاصل رہے۔ آئینی تحفظ کا مطلب ہر انتظامی جزئیے کو آئین میں درج کرنا نہیں۔ اسی مقام پر نئے آرٹیکل 160 اے کی تجویز اہم ہو جاتی ہے۔

قومی اسمبلی میں 12 اگست 2025 کو پیش کیے گئے ایک نجی آئینی ترمیمی بل میں آرٹیکل 140 اے کو وسعت دینے اور صوبائی مالیاتی کمیشنوں کے لیے نیا آرٹیکل 160 اے شامل کرنے کی تجویز دی گئی۔ اس میں طے شدہ فارمولے کے تحت مالی وسائل کی تقسیم، مقررہ وقفوں سے صوبائی مالیاتی کمیشن کے ایوارڈ، مقامی حکومتوں کے متعین حصے، ان کے فنڈز میں براہِ راست ادائیگی اور مقامی امور و اداروں کے تسلسل کے لیے اضافی تحفظات تجویز کیے گئے۔ یہ بل ابھی ایک تجویز ہے اور اس میں پیش کیے گئے مخصوص فارمولوں پر بحث کی گنجائش موجود ہے۔

آئینی راستے کو کسی ایک طے شدہ صورت تک محدود رکھنے کی ضرورت نہیں۔ سیاسی امکانات اور قانون سازی کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے آرٹیکل 160 جیسے تحفظات کو مضبوط بنائے گئے آرٹیکل 140 اے میں بھی شامل کیا جا سکتا ہے اور الگ آرٹیکل 160 اے میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا مقامی سطح پر اختیارات کی منتقلی کو ادارہ جاتی نظام، مقررہ وقفوں، مالی نظم اور ایسے قابلِ نفاذ تحفظات حاصل ہوتے ہیں جو اپنی بنیادی روح میں وفاق اور صوبوں کے تعلق میں آرٹیکل 160 کے فراہم کردہ تحفظات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

ایک راستہ وفاق سے مقامی حکومتوں کو براہِ راست مالی وسائل کی منتقلی کا ہو سکتا ہے، جس سے صوبائی صوابدید کم ہو جائے گی۔ جہاں مالی اختیارات کی نامکمل منتقلی نے بے اعتمادی پیدا کی ہے، وہاں اس تجویز کی کشش قابلِ فہم ہے۔ لیکن اس سے وفاقی بندوبست کا ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقامی حکومتیں صوبوں پر کم انحصار کرتے ہوئے اسلام آباد پر زیادہ منحصر ہو جائیں گی؟ زیادہ متوازن راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ وسائل کی منتقلی کی موجودہ ترتیب برقرار رکھی جائے۔ وفاق سے قومی مالیاتی کمیشن کے ذریعے صوبوں کو، اور صوبوں سے آئینی تحفظ رکھنے والے صوبائی مالیاتی کمیشنوں کے ذریعے مقامی حکومتوں کو۔ فرق یہ ہوگا کہ دوسرے مرحلے میں وسائل کی منتقلی بڑی حد تک صوابدیدی نہیں رہ سکے گی۔ صوبائی مالیاتی کمیشنوں کی تشکیل، بنیادی ذمہ داریوں اور مقررہ وقفوں کو آئینی ضمانت دی جا سکتی ہے، وسائل کی تقسیم کے لیے غیر جانب دارانہ معیار لازم قرار دیا جا سکتا ہے اور مقامی حصہ طے ہونے کے بعد اس کی مقامی حکومتوں کے فنڈز میں ادائیگی خودکار اور قانونی طور پر قابلِ نفاذ بنائی جا سکتی ہے۔ اس طرح صوبائی خودمختاری بھی برقرار رہے گی اور اسے صوبے کے اندر اختیارات کے ارتکاز کا ذریعہ بننے سے بھی روکا جا سکے گا۔

تاہم اختیارات کی منتقلی محض پیسے کی منتقلی نہیں۔ اس کے لیے کام، مالی وسائل اور عملہ، تینوں ساتھ منتقل ہونے چاہییں۔ اگر کسی مقامی حکومت کو صفائی کی ذمہ داری دے دی جائے، لیکن متعلقہ عملے پر اس کا اختیار نہ ہو، یا سڑکوں کی ذمہ داری سونپ دی جائے مگر ترقیاتی وسائل اس کے اختیار میں نہ ہوں تو اختیارات کی منتقلی نامکمل رہتی ہے۔ آرٹیکل 160 سے حاصل ہونے والا سبق یہ نہیں کہ اسے جوں کا توں نقل کر لیا جائے۔ وفاق اور صوبوں کا تعلق، صوبوں اور مقامی حکومتوں کے تعلق جیسا نہیں۔ سبق یہ ہے کہ اختیارات اور وسائل کی اہم منتقلی کو حکومتوں اور شخصیات کی تبدیلی کے باوجود برقرار رکھنے کے لیے اداروں، واضح طریقہ کار، مقررہ وقفوں اور تحفظات کی ضرورت ہوتی ہے۔

پاکستان میں اختیارات کی پہلی منتقلی، یعنی وفاق سے صوبوں کو منتقلی، بتدریج زیادہ واضح آئینی قواعد کے تابع بنائی گئی۔ دوسری منتقلی، یعنی صوبوں سے مقامی حکومتوں کو اختیارات کی منتقلی، اب بھی نسبتاً زیادہ حالات اور صوابدید پر منحصر ہے۔ آرٹیکل 140 اے کے مستقبل کو مضبوط صوبوں اور مضبوط مقامی حکومتوں کے درمیان مقابلے کے طور پر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ ایک مؤثر وفاق میں دونوں کی گنجائش ہونی چاہیے۔

آئینی مقصد واضح ہے کہ اختیار اس سطح پر ہونا چاہیے جہاں اسے بہتر طور پر استعمال کیا جا سکے، وسائل ذمہ داری کے ساتھ منتقل ہوں اور ہر سطح کی حکومت کو اتنا ادارہ جاتی تحفظ حاصل ہو کہ اس کا وجود اور کام مکمل طور پر اوپر کی حکومت کی سیاسی رضامندی پر منحصر نہ رہے۔ اس اعتبار سے آرٹیکل 160 اور آرٹیکل 140 اے اختیارات کی منتقلی کی دو کہانیاں ہیں۔ ایک کو عملدرآمد کا نظام دیا گیا، دوسری کو ایک آئینی ذمہ داری سونپی گئی۔ پاکستان کے آئینی ڈھانچے کی تکمیل کے لیے ضروری ہے کہ دوسری منتقلی کو بھی پہلی کے قریب تر تحفظ حاصل ہو۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں