کراچی : شہر قائد کے مختلف علاقوں میں کھلے عام شراب کی فروخت جاری ہے، قانونی طور اس کی خرید و فروخت کی اجازت مجوزہ طور پر صرف اقلیتی برادری کو ہی ہے۔
پاکستان میں شراب کی فروخت اور اس کے استعمال سے متعلق قوانین کے باوجود اس کی دستیابی اور بڑھتی ہوئی طلب پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق غیر مسلم شہریوں کے لیے قانونی طور پر مخصوص اجازت کے تحت فروخت ہونے والی شراب کا ایک بڑا حصہ مبینہ طور پر ایسے افراد تک بھی پہنچ رہا ہے جو قانوناً اسے خریدنے کے مجاز نہیں۔
ملکی قوانین کے مطابق پاکستان میں شراب کی تیاری اور محدود پیمانے پر فروخت کی اجازت صرف غیر مسلم شہریوں کو ہے، تاہم مسلمان شہریوں کے لیے شراب نوشی پر مکمل پابندی عائد ہے۔
قانون کے مطابق غیر مسلم شہری بھی شراب اپنی مرضی سے نہیں خرید سکتے بلکہ مذہبی تہواروں کے موقع پر مقررہ ضوابط کے تحت اس کی خریداری کی اجازت ہوتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس قانونی پابندی کے باوجود سال بھر شراب کی فروخت کیسے جاری رہتی ہے اور اس کا اصل خریدار کون ہے؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سندھ بھر میں شراب کی 150 دکانیں موجود ہیں، جن میں تقریباً 70 دکانیں صرف کراچی میں قائم ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
شراب کی قانونی فروخت کے لیے لائسنس حدود آرڈیننس کی متعلقہ دفعات کے تحت جاری کیے جاتے ہیں، جبکہ مسلمان شہریوں کے لیے شراب نوشی پر سزائیں بھی مقرر ہیں۔ تاہم سندھ میں شراب کی فروخت پورے سال بلاتعطل جاری رہتی ہے۔
رپورٹ میں سندھ ہائی کورٹ کے 2017 کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ کے3 رکنی بینچ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا، جس کے بعد شراب کی فروخت بھرپور طریقے سے جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق 2022 میں سندھ میں شراب کی فروخت پر عائد ڈیوٹی کی مد میں 2021 کے مقابلے میں 55 فیصد زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا، جس سے اس شعبے میں ہونے والی تجارتی سرگرمیوں کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے بعض نمائندوں نے اقلیتوں کے نام پر شراب کی فروخت کے طریقہ کار پر اعتراض کیا ہے۔ رپورٹ میں وفاقی ایوانِ صنعت و تجارت کی اقلیتی کمیٹی کے سربراہ آتم پرکاش اور مسیحی ہیلپ لائن سے وابستہ سلیم مائیکل کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ہندو اور مسیحی مذاہب بھی نشہ آور اشیا اور شراب کے استعمال کی اجازت نہیں دیتے۔
اقلیتی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی شخص شراب استعمال کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے اقلیتوں کا نام استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض بااثر افراد اور سیاست دانوں نے اپنے غیر مسلم ملازمین کے نام پر شراب کے لائسنس حاصل کر رکھے ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔
سندھ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں سرکاری لائسنس رکھنے والے ہول سیلرز اور وائن شاپس موجود ہیں، جبکہ غیر ملکی شراب کی درآمد اور فروخت سے وابستہ ایجنٹس بھی اس کاروبار میں شامل ہیں۔
اس تمام صورتحال میں یہ بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ قانون میں اس کی خرود و فروخت محدود دائرے میں ہونے کے باوجود شراب کی حقیقی طلب کہاں سے پیدا ہو رہی ہے اور اس کی نگرانی کا مؤثر نظام کس حد تک فعال ہے؟



