کلام سنانے کی فرمائش پر مولانا حالیؔ کا عذرِ حافظہ

0
2

مولانا کی سیرت میں یہ دو ممتاز خصوصیتیں تھیں۔ ایک سادگی اور دوسری درد دلی۔ اور یہی شان ان کے کلام میں ہے۔ ان کی سیرت اور ان کا کلام ایک ہے یا یوں سمجھیے کہ ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ مجھے اپنے زمانے کے نامور اصحاب اور اپنی قوم کے اکثر بڑے شخصوں سے ملنے کا اتفاق ہوا ہے لیکن مولانا حالیؔ جیسا پاک سیرت اور خصائل کا بزرگ مجھے ابھی تک کوئی نہیں ملا۔

جن دنوں مولانا حالیؔ کا قیام حیدرآباد میں تھا ایک دن گرامیؔ مرحوم نے چائے کی دعوت کی۔ چند اور احباب کو بھی بلایا، چائے وغیرہ کے بعد جیسا کہ معمول ہے فرمائش ہوئی کہ کچھ اپنا کلام سنائیے۔ مولانا نے وہی حافظہ کا عذر کیا ہر چند لوگوں نے کہا کہ جو کچھ بھی ہو یاد وہ فرمائیے، مگر مولانا عذر ہی کرتے رہے۔

اتنے میں ایک صاحب کو خوب سوجھی، وہ چپکے سے اٹھے اور کہیں سے دیوانِ حالیؔ لے آئے اور لا کے سامنے رکھ دیا۔ اب مجبور ہوئے کہ کوئی عذر نہیں چل سکتا تھا۔ آخر انھوں نے یہ غزل سنائی جس کا مطلع تھا:

ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب ترکہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھیے جاکر نظر کہاں

آج کل تو ہمارے اکثر شاعر لَے سے یا خاص طور سے گا کے پڑھتے ہیں، ان کا ذکر نہیں لیکن جو تحت اللفظ پڑھتے ہیں، ان میں بعض طرح طرح سے چشم و ابرو، ہاتھ، گردن اور جسم سے کام لیتے اور بعض اوقات ایسی صورتیں بناتے ہیں کہ بے اختیار ہنسی آجاتی ہے۔ مولانا سیدھے سادے طور سے پڑھتے تھے۔ البتہ موقع کے لحاظ سے اس طرح ادا کرتے کہ اس سے اثر پیدا ہوتا تھا۔ ایک بار علی گڑھ کالج میں محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا سالانہ جلسہ تھا۔ مولانا کا مزاج کچھ علیل تھا۔ انھوں نے اپنی نظم پڑھنے کے لیے مولوی وحید الدین سلیم صاحب کو دی جو بہت بلند آواز مقرر، پڑھنے میں کمال رکھتے تھے۔ سلیم صاحب ایک ہی بند پڑھنے پائے تھے کہ مولانا سے نہ رہا گیا۔ نظم ان کے ہاتھ سے لے لی اور خود پڑھنی شروع کی۔ ذرا سی دیر میں ساری مجلس میں کہرام مچ گیا۔

مولانا نے دنیاوی جاہ و مال کی کبھی ہوس نہیں کی، جس حالت پر تھے اس پر قانع تھے، اور خوشی خوشی زندگی بسر کرتے اور اس میں اوروں کی بھی مدد کرتے رہتے تھے۔

مروّت کے پُتلے تھے۔ جب تک خاص مجبوری نہ ہو کسی کی درخواست رد نہیں کرتے تھے۔ وقت بے وقت لوگ آجاتے اور فضول باتوں میں وقت ضائع کرتے، وہ بیٹھے سنا کرتے لیکن محض دل آزاری کے خیال سے یہ نہ ہوتا کہ خود اٹھ کر چلے جاتے یا کنایتاً اشارتاً کوئی ایسی بات کہتے کہ لوگ اٹھ جاتے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں