اسلام آباد : وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ دس سال کے دوران 800 ارب روپیہ کے پی حکومت کو دیا گیا جس کا تاحال کوئی حساب نہیں دیا گیا، صوبے میں قیام امن کے لیے حکمت عملی تیار کرلی گئی۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام بارڈرز ٹاکس میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور صوبے کی ترقی کے حوالے سے کیلیے صوبائی حکومت سے ہر ممکن تعاون کیا گیا لیکن وہ مسلسل جھوٹ بولتے رہے کہ وفاق مالی تعاون نہیں کررہا۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 10 سال کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں، بالخصوص پولیس کو جدید آلات اور اسلحہ فراہم کرنے کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو تقریباً 800 ارب روپے دیے گئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ رقم صوبائی حکومت کے اکاؤنٹ نمبر ون میں رکھی گئی، جس کے بعد اس کے استعمال کا مناسب حساب کتاب موجود نہیں، جبکہ وفاق کی جانب سے دیے گئے مالی وسائل کے باوجود صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مطلوبہ تعاون نہیں کیا۔
طارق فضل چوہدری نے کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں دہشت گرد عام آبادی میں گھل مل جاتے ہیں اور مقامی آبادی کے درمیان پناہ لیتے ہیں، اس لیے وہاں کارروائیوں کے لیے سول انتظامیہ اور صوبائی حکومت کا تعاون انتہائی اہم ہوتا ہے۔
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے معاملے پر صوبائی حکومت سے کئی ہفتوں تک بات چیت اور مذاکرات کیے گئے تاکہ اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون پر آمادہ کیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کا فیصلہ وفاقی حکومت نے حتمی طور پر کرلیا تھا اور غیر معمولی حالات کے باعث غیر معمولی اقدامات کرنا پڑے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ وفاقی حکومت کے لیے کوئی آسان یا ترجیحی فیصلہ نہیں تھا بلکہ حالات کے تناظر میں یہ قدم اٹھایا گیا۔
ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت وفاق کے ساتھ تعاون کررہی ہوتی تو وفاقی حکومت کو خود یہ بوجھ اٹھانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت نے 3 مرحلوں پر مشتمل حکمت عملی وضع کی ہے، جس کے تحت پہلے دہشت گردوں سے علاقے کلیئر کرائے جائیں گے، دوسرے مرحلے میں پولیس ان علاقوں کو سنبھالے گی اور تیسرے مرحلے میں وہاں ترقیاتی کام کیے جائیں گے۔
پروگرام کے آخر میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس حکمت عملی کے نتیجے میں خیبر پختونخوا میں پائیدار امن قائم ہوگا اور صوبے میں امن کی بحالی سے پورے پاکستان میں امن و استحکام کو فروغ ملے گا۔



