میر رضا علی قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں پولیس کی تفتیش کو سنگین ناکامی قرار دے دیا گیا۔
جوڈیشل کمیشن رپورٹ کے مطابق کیس میں جائےوقوعہ سے شواہد جمع کرنے اور محفوظ رکھنے کے قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
کیس میں فنگر پرنٹس، ڈی این اے اور دیگر فرانزک شواہد متاثر ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق جائے وقوعہ کےکم از کم 9 ممکنہ راستے تھے، پولیس نے صرف ایک راستے کی سی سی ٹی وی حاصل کی، میررضا علی کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج کے حصول اور شواہد کی دستاویز بندی میں سنگین خامیاں سامنے آئیں۔
مالی مشکلات، قرضوں کی بنیاد پر میر رضا علی کی موت کو خودکشی قرار دینے کے مؤقف پر سوالات بھی اٹھ گئے۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ میر رضا علی کے مالی معاملات، قرضوں، کاروباری لین دین کی تفصیلات خودکشی کا حتمی ثبوت نہیں۔
میر رضا علی کیس میں مالی لین دین اور کرپٹو کرنسی ریکارڈ کی آزادانہ تصدیق کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کیس میں 8 رکنی میڈیکل بورڈ تبدیل کر کے 5 رکنی بورڈ بنانے پر جوڈیشل کمیشن نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیکل بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی کا طریقہ کار غیرمعمولی اور قانونی طور پر قابل اعتراض تھا۔
رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں اجلاس سےوزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے دباؤ ڈالنے کا کوئی ثبوت نہیں ملا، میر رضا کیس میں تفتیشی کوتاہیوں نے مؤثر عدالتی کارروائی کے امکانات کو نقصان پہنچایا۔



