پھانسی سے پہلے قتل کے تین مجرموں کی آخری خواہش

0
9

ردو کے معروف شاعر کنور مہندر سنگھ بیدی سحر بھارت میں ہی نہیں پاکستان میں بھی بہت مقبول تھے۔ انھیں یہاں مشاعروں اور ادبی تقریبات میں شرکت کے لیے مدعو کیا جاتا تھا۔ بیدی صاحب متحدہ ہندوستان میں اور بعد میں بھارت میں بھی اہم انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ تقسیمِ ہند سے قبل بھی بیدی صاحب کو ان سیرت و کردار نے ہر قوم اور مسلمانوں میں قدر و عزّت دی تھی اور بٹوارے کے بعد بھی ان کا یہ امتیاز برقرار رہا۔”یادوں کا جشن“ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر کی آپ بیتی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اپنے وقت کے معروضی حالات کے ساتھ واقعات کو بڑے ہی سادہ اور دل چسپ انداز میں‌ بیان کیا ہے۔ وہ ایک جاگیر دار گھرانے کے فرد تھے اور صرف ایک شاعر یا ادیب کے طور پر ہی مشہور نہیں تھے بلکہ انھوں نے بطور مجسٹریٹ، اسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر جیسے اہم عہدوں پر فائز رہتے ہوئے اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کو اس خوبی سے نبھایا کہ سبھی ان کے معترف ہوگئے۔

یہاں‌ ہم بیدی صاحب کی خود نوشت سے ایک واقعہ نقل کررہے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انگریز کے دور میں اضلاع کی انتظامیہ اور عدالتوں میں کس طرح امور انجام دیے جاتے تھے۔ یہ قتل کے تین ملزمان کی پھانسی کا قصّہ ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

پچھلے وقتوں میں قتل کے مجرموں کو کھلے میدان میں پھانسی پر لٹکایا جاتا تھا تاکہ عوام عبرت حاصل کر سکیں۔ بعد میں یہ رواج تبدیل ہو گیا۔ مجرم جیل ہی میں پھانسی پر لٹکائے جاتے تھے۔

چونکہ بی اے میں میں نے فارسی کے علاوہ فلسفہ بھی پڑھا تھا۔ اس لیے میں چاہتا تھا کہ ایسے مجرم کو قریب سے دیکھوں جسے یہ علم ہو کہ چند ہی منٹ بعد اسے موت کی نیند سونا ہوگا اور دنیا کی کوئی طاقت اُسے اس وقت نہیں بچا سکتی۔ پھانسی کے وقت ایک مجسٹریٹ درجہ اوّل کی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے تا کہ اگر مجرم کوئی وصیت کرنا چاہے یا کوئی آخری بیان دینا چاہے تو اسے قلم بند کیا جا سکے۔ میں ابھی درجہ اوّل کا مجسٹریٹ نہیں ہوا تھا لیکن میں نے ملک عبدالقدوس صاحب مجسٹریٹ درجہ اوّل سے گزارش کی اگر کسی پھانسی کے لیے اُن کی ڈیوٹی لگے تو مجھے بھی ہمراہ لے جائیں۔

کچھ ہی دن کے بعد انہوں نے کہلا بھیجا کہ کل صبح چھے بجے ڈسٹرکٹ جیل کے دروازہ پر ملوں۔ کل پھانسی ہوگی۔ میں وقت سے کچھ پہلے ہی وہاں پہنچ گیا۔ ملک صاحب بھی ٹھیک وقت پر پہنچ گئے اور ہم سب اندر داخل ہوئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ ایک نہیں بلکہ تین مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ ان میں سے ایک میراثی تھا، ایک اعوان اور ایک سردار۔

میراثی نے اپنی بدچلن لڑکی کو قتل کیا تھا۔ اعوان نے اپنے باپ کے قاتل سے بدلہ لیا تھا اور سردار نے اپنے معصوم بھتیجے کو اس لیے قتل کر دیا تھا کہ اُس کی جائیداد بھی اُس کے اپنے بیٹوں کو ملے۔ باری باری ہم ان تینوں کے پاس گئے۔ میراثی نے کہا کہ اس نے قتل کیا ہے اور اُسے کچھ نہیں کہنا ہے۔ اتنی خواہش ضرور ہے کہ پھانسی کے تختہ کی طرف جاتے ہوئے اگر اسے جیل کے دروازہ کے پاس سے ہو کر گزارا جائے تو وہ اپنے بچوں کو الوداع کہہ سکے گا۔ سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اس پر میراثی نے کہا اچھا اللہ کے حوالے چلیے میں تیار ہوں۔ اس کو لے کر ہم اعوان کی کوٹھری میں آئے۔ بہت ہی خوبصورت نو جوان تھا۔ عمر بھی سترہ اٹھارہ سے زیادہ نہ ہوگی۔ بہت جوش میں تھا جس طرح پہلوان اکھاڑے میں اُترنے سے پہلے اپنے جسم کو گرماتے ہیں۔ وہ بھی اس طرح ڈنڈ پیل رہا تھا۔ جب اُس سے پوچھا کہ کچھ کہنا ہے تو اُس نے صرف اتنی خواہش ظاہر کی کہ اُس کے گلے میں چمار رسی نہ ڈالے، کوئی اونچی ذات والا ہو۔ سردار کے پاس گئے تو وہ پاگلوں کی طرح بڑبڑا رہا تھا۔ اس کی کوئی بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا تھا جسے کہہ رہا ہو مجھے بچاؤ، مجھے بچاؤ۔ جب ہم ان کو لے کر پھانسی گھاٹ کی جانب چلے تو میراثی تسبیح پھیر رہا تھا اور اعوان نعرۂ تکبیر لگا رہا تھا۔ جیل کے باقی قیدی بلاتفریقِ مذہب نعرۂ تکبیر میں شریک ہوتے تھے بلکہ کچھ سکھ قیدی جو نعرۂ تکبیر کے الفاظ کو بھی نہیں سمجھ پاتے تھے۔ اللہ اکبر کے بجائے صرف اللہ ہی زور سے کہتے تھے۔ جیلوں میں یہ رواج سا ہے کہ جب کسی کو پھانسی پر لٹکانے کے لیے کوٹھری سے باہر نکالتے ہیں تو جیل کی دوسری بارکوں کے سامنے سے ہو کر جانا ہوتا ہے۔ اُس وقت تک تمام قیدیوں کو بند رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ جب بھی مجرم نعرہ لگاتے ہیں تو سارے قیدی اُن کا ساتھ دیتے ہیں۔ ہندو ہو تو ہر ہر مہادیو اور سکھ ہو تو ست سری اکال کا نعرہ لگتا ہے۔ سردار تو چل بھی نہیں سکتا تھا۔ قدم قدم پہ گرتا تھا۔ کبھی اُس کو اٹھاتے تھے، کبھی گھسیٹتے تھے۔ جب ہم پھانسی کے تختہ کے قریب پہنچے تو میراثی تو خود بخود تختہ پر کھڑا ہو گیا۔ اعوان نے وہی التجا کی کہ چمار اُس کے گلے میں رسی نہ ڈالے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل کے کہنے پر داروغہ جیل نے خود رسّی ڈالی۔ سردار کو گھسیٹ کر تختہ پر لایا گیا لیکن جب اُس کے گلے میں رسی ڈال کر اُسے کھڑا کیا گیا تو وہ پھر گر گیا۔ دو تین مرتبہ ایسا کرنے پر اسے دو وارڈروں نے گود میں اٹھائے رکھا اور جب تختہ کو گرا دیا گیا تو اسے چھوڑ دیا جس سے وہ بھی لٹک گیا۔ ان تینوں کا جرم تو قتل ہی تھا اور پھانسی پر بھی تینوں لٹکا دیے گئے، لیکن آپ نے دیکھا کہ پھانسی کے تختہ پر جاتے ہوئے ہر ایک کا طور طریقہ الگ الگ تھا۔ اس کو سمجھنے کے لیے میں ضروری خیال کرتا ہوں کہ اُن کے جرم کی تفصیل سے بھی آگاہ کیا جائے۔

میراثی نے اپنی لڑکی کو قتل کیا جو شادی سے پہلے ہی بدچلن ہو چکی تھی۔ اس کے لیے خاوند تلاش کرنے میں میراثی کو بہت دشواری پیش آئی لیکن آخرکار ایک لڑکے سے اُس کی شادی ہو گئی۔ شادی کے بعد بھی اُس لڑکی نے سسرال میں وہی دھندہ شروع کر دیا۔ نوبت طلاق تک پہنچی۔ طلاق کے بعد جب لڑکی اپنے والد کے پاس آئی تو والد نے اُسے گھر میں رکھنے سے انکار کر دیا۔ وہ بہت روئی پیٹی اور آیندہ نیک چلن رہنے کا وعدہ کیا، آخر باپ تھا، ترس کھا کر اسے پھر اپنے پاس رکھ لیا لیکن سخت تنبیہہ کی کہ اگر آئندہ پھر بھی ایسی حرکت کی تو جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ کچھ دن تو وہ نیک چلن رہی مگر عورت اگر ایک بار بگڑ جائے تو اُس کا سنورنا ناممکن نہیں تو دشوار ضرور ہوتا ہے۔ چنانچہ دو چار مہینے کے بعد پھر بدکاری شروع کر دی۔ باپ نے ایک دو بار دھمکایا مگر جب وہ باز نہ آئی تو اُسے قتل کر دیا اور خود جا کر تھانے میں اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ میراثی سمجھتا تھا کہ اس نے جو کچھ کیا وہ اپنے خاندان کی عزت اور ناموس کے لیے کیا تھا۔ اس لیے اُسے پھانسی پر لٹکنے کا کوئی غم نہیں تھا۔ اُس نے یہ قربانی اس لیے دی کہ اُس کی باقی ماندہ اولاد کو عبرت حاصل ہو۔

اعوان ابھی چار پانچ برس کا بچہ تھا کہ اُس کے باپ کو علاقے کے ایک آدمی نے قتل کر دیا۔ وہ جب ذرا جوان ہوا تو ماں سے کہا کرتا تھا کہ میں اپنے والد کے قاتل سے بدلہ لوں گا۔ ماں منع کرتی تھی اور کہتی تھی کہ تمہارا باپ تو قتل ہو ہی گیا ہے اور اگر تم نے اُس کا بدلہ لینے کے لیے قتل کیا تو تم بھی پھانسی پا جاؤ گے۔ میں کہیں کی نہ رہوں گی۔ اس فہمائش کے باوجود اس لڑکے کے دل میں آتش انتقام سلگتی رہی۔ چنانچہ ایک دن جب اُس کے باپ کا قاتل کھیت میں ہل چلا رہا تھا تو اُس نے اُس کو للکارا اور کہا کہ سنبھل جاؤ آج میں اپنے باپ کا بدلہ لینے آیا ہوں۔ دونوں میں لڑائی ہوئی اور لڑکے نے اُس کو مار ڈالا۔ پولیس میں رپٹ ہوئی اور اُسے قتل کے جرم میں چالان کر کے مقدمہ عدالت کے سپرد کر دیا گیا۔ اُس نے جاتے ہی عدالت میں جرم کا اقبال کر لیا اور کہا کہ بے شک میں نے اس کو قتل کیا ہے کیونکہ اس نے میرے باپ کو قتل کیا تھا۔ جرم ثابت ہو گیا۔ مگر قانون اجازت دیتا ہے کہ اگر قتل کا مجرم کم سن ہو تو اسے پھانسی پر لٹکائے جانے کی بجائے عمر قید کی سزا دی جائے۔ ہونا بھی ایسا ہی چاہیے لیکن عام طور پر ہر ملزم اپنی عمر جان بوجھ کر اس خیال سے کم لکھاتا ہے کہ اگر جرم ثابت ہو بھی گیا تو کم از کم پھانسی سے تو بچ جائے گا۔ اُدھر عدالتیں بھی عام طور پر ملزم کے کم عمر بتانے پر جان بوجھ کر عمر بڑھا کر لکھتی ہیں۔ دراصل ملزم کی عمر کے بارے میں باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہییں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس اعوان کی عمر کے بارے میں تحقیقات کرائی جاتی تو وہ پھانسی پر کبھی نہ لٹکایا جاتا۔

سردار کا جرم ان دونوں سے بالکل الگ تھا۔ اُس کے بھائی نے مرنے سے پہلے اپنے کم سن اکلوتے بیٹے کو اس کے سپرد کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ میری نشانی ہے۔ اسے سنبھال کر رکھنا۔ کچھ ہی عرصے کے بعد سردار کو خیال آیا کہ اگر اس بچّے کو ختم کر دیا جائے تو اس کے حصے کی جائیداد بھی اُس کے بچوں کو مل جائے گی۔ چنانچہ موقع پا کر سردار نے اپنے معصوم بھیجے کو قتل کردیا اور نعش جنگل میں پھینک آیا۔ پولیس میں اس کی گمشدگی کی رپٹ درج کرا دی۔ پولیس نے تفتیش کے بعد اسی سردار کو گرفتار کر لیا۔ سردار نے سب کچھ بتا دیا۔ بچے کی نعش بھی برآمد کرا دی۔ یہی وجہ تھی کہ ایک ایسی قوم سے تعلق رکھنے والا جو موت کے منہ میں جاتے ہوئے بھی ثابت قدم رہتی ہے، لڑکھڑا رہا تھا اور قدم قدم پر گرتا تھا۔ میراثی اور اعوان کے ضمیر تو انہیں حوصلہ دے رہے تھے کہ جو کچھ کیا درست کیا۔ اس سردار کا ضمیر کیا کہتا جس نے ایک معصوم بچّے کو جسے اُس کی حفاظت میں سونپا گیا تھا، ذاتی لالچ کی وجہ سے قتل کر دیا۔

ان تینوں مجرموں کو پھانسی پر لٹکتا ہوا دیکھ کر مجھ پر بڑا گہرا اثر ہوا۔ رات کو بھی اُن کی شکلیں آنکھوں کے سامنے گھومتی رہیں اور نیند اُچاٹ ہوگئی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں