رسول حمزہ توف کی اس کتاب سے ان کی زبانی ایک دل چسپ واقعہ ہم یہاں پیش کررہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں، ایک زمانے میں میں ایک آوار تھیٹر سے وابستہ تھا۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب اسٹیج سے متعلق ضروری سامان، ڈرامے میں پہنے جانے والے کپڑے اور دوسری چیزیں کندھوں پر لادے ہم لوگ گاؤں گاؤں پھرا کرتے (تھیٹر کا سارا سامان اور اسباب گدھوں پر لدا ہوتا پھر بھی کچھ بچ رہتا جسے ہم لوگوں کو ڈھونا پڑتا) اور یوں ڈرامے کا فن پہاڑی باشندوں تک پہنچاتے۔ مجھے اکثروہ زمانہ یاد آتا ہے جو میں نے اس طرح گزارا ہے۔
میں بعض ڈراموں میں چھوٹے چھوٹے کردار بھی ادا کرتا لیکن عام طور پر مجھے پرومپٹر (آہستہ آہستہ اداکاروں کو ان کے جملے یاد کرانے والا جو اسٹیج کے پس منظر میں رہتا ہے) کے فرائض ادا کرنے ہوتے۔ اس زمانے میں ایک جوان شاعر کی حیثیت سے مجھے یہ کام دوسروں کے مقابلے میں زیادہ پسند تھا۔ اداکاری، چہرے کی حرکات، اشارے کنائے اور اسٹیج پر موجودگی کو میں ثانوی حیثیت دیتا تھا۔ مجھے لباس، میک اپ اور آرائش غیر اہم لگتے تھے۔ سب سے پہلی اور اہم چیز ڈرامے کا متن ہے اور اسی لئے میں بڑی چوکسی کے ساتھ اس بات پر نظر رکھتا کہ اداکار ایک ایک جملہ یاد رکھیں اور جس طرح جملہ ادا کرنا چاہئے بالکل اسی انداز اور اسی لب و لہجے کے ساتھ وہ جملہ ادا کریں۔ جہاں کوئی اداکار کوئی جملہ بھول جاتا یا غل طور پر بول جاتا میں اپنی جگہ سے سر نکال کر صحیح جملہ اتنی بلند آواز سے دہراتا کہ پورا ہال میری آواز سن لیتا۔
جی ہاں! میں متن اور الفاظ کو دوسری تمام چیزوں پر فوقیت دیتا تھا کیونکہ الفاظ نہ لباس کے محتاج ہوتے ہیں اور نہ ہی میک اپ کے اور ان سب چیزوں کے بغیر بھی اپنے معنی اور مفہوم کو دوسروں تک پہنچا سکتے ہیں۔
اس سلسلے میں مجھے ایک دل چسپ واقعہ یاد آگیا۔ ہم لوگ ایک ڈرامہ پیش کر رہے تھے جس کا نام تھا پہاڑی لوگ اور موضوع تھا آوار قوم کا ماضی۔ ہر بار کی طرح میں پرومپٹر کے فرائض ادا کر رہا تھا۔ کہانی کچھ اس طرح کی تھی کہ ہیرو آئیگازی اپنے دشمنوں سے بھاگ کر پہاڑوں میں پناہ گزین ہے اور رات کے اندھیرے میں اپنی محبوبہ سے ملنے گاؤں آتا ہے۔ محبوبہ اسے سمجھاتی ہے کہ وہ چلا جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ خون کے پیاسے دشمن اسے دیکھ لیں اور موت کے گھاٹ اتار دیں۔ لیکن آئیگازی ایسا نہیں کرتا۔ وہ بارش سے بچانے کے لئے بکری کی کھال کا کوٹ اتار کر محبوبہ کو پہنا دیتا ہے اور پھر اپنی محبت اور ہجر کی اذیتیوں کا بیان شد و مد سے کرنے لگتا ہے۔
اس دن یہ کردار ماگائیف نامی اداکار انجام دے رہا تھا۔ محبت کا سین پورے شباب پر تھا کہ
اداکار کی بیوی اسٹیج پر آگئی اور اپنے شوہر پر ٹوٹ پڑی جو اس کی آنکھوں کے سامنے ایک دوسری عورت سے اظہارِ عشق کر رہا تھا۔ ماگائیف نے اس کے بازو پکڑے اور تقریبا اس کو کھینچتا ہوا اسٹیج کے پیچھے لے گیا تاکہ صورتِ حال کی وضاحت کر سکے۔ اس نے سمجھا تھا کہ وہ بیوی کو سمجھا بجھا کر اسٹیج پر واپس آ جائے گا۔ لیکن بیوی نے کسی طرح پیچھا نہ چھوڑا۔ ہیروئن تھوڑی دیر تک اسٹیج پر کھڑی انتظار کرتی رہی۔ شش و پنج کا عالم تھا اور ڈرامہ جہاں رک گیا تھا، رکا ہوا تھا۔
میں اپنے سیدھے سادے لباس میں اپنی جگہ بیٹھا تھا۔ پینٹ اور سفید قمیض پہنے جس کے کالر
کے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ پیروں میں سلیپر تھے۔ مجھے اس وقت ادا کئے جانے والے مکالمے پوری طرح یاد تھے مگر اس لباس میں میں اداکار کی کمی تو پوری نہیں کر سکتا تھا۔ لیکن میرے نزدیک اہم ترین چیز تو مکالمے تھے۔ لباس اور میک اپ نہیں، اس لئے میں اسٹیج پر تقریباً کود پڑا اور وہ سارے مکالمے ہیروئن کو مخاطب کر کے ادا کر دیے جو اسے ماگائیف کی زبانی سننے تھے۔
مجھے نہیں معلوم کہ حاضرین کو خوشی ہوئی یا نہیں۔ غالباً ان کے لئے یہ سنجیدہ ڈرامہ مزاحیہ ڈرامے میں تبدیل ہو گیا ہو۔ بہرحال میں پوری طرح مطمئن تھا۔ کیونکہ ڈرامے کا متن اور مفہوم حاضرین سمجھ گئے تھے۔ ایک لفظ کی بھی بھول چوک نہیں ہوئی تھی اور میرے نزدیک اہم بات یہی تھی۔



