اے آئی کی لکھی تحریر کیسے پکڑی جائے گی؟ نئی ٹیئکنالوجی نے حیران کردیا

0
8

اے آئی کی لکھی تحریریں اب چھپائی نہیں جاسکیں گی؟ اس سلسلے میں نئی واٹر مارکنگ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔،

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے بڑھتے ہوئے استعمال کے سبب اب یہ جاننا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے کہ کوئی تحریر کسی انسان نے لکھی ہے یا مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

تاہم اب ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے ایسے طریقے متعارف کرائے جا رہے ہیں جن کے ذریعے اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت آسان بنائی جا سکے گی، یعنی لکھنے والا اے آئی کی تحریر کو اپنا نام نہیں دے پائے گا۔

رپورٹ کے مطابق معروف اے آئی کمپنی اینتھروپک اپنے ماڈلز سے تیار ہونے والی تحریروں میں واٹرمارکنگ شامل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے تحریر میں ایک ایسا پوشیدہ پیٹرن شامل کیا جائے گا جو عام قاری کو نظر نہیں آئے گا، تاہم مخصوص ڈی ٹیکٹر کے ذریعے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکے گا کہ متن اے آئی سے تیار کیا گیا ہے یا نہیں۔

واٹرمارکنگ کی ضرورت اس لیے بھی بڑھ رہی ہے کیونکہ دنیا بھر میں اے آئی سے تیار ہونے والے مواد کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

یورپی یونین کے اے آئی ایکٹ کے تحت اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت اور اس کی واضح نشاندہی کے لیے قواعد متعارف کرائے جا رہے ہیں۔

اینتھروپک کے مطابق یہ واٹرمارکنگ صرف یورپ تک محدود نہیں ہوگی بلکہ جہاں جہاں اس کے متعلقہ اے آئی ماڈلز دستیاب ہوں گے، وہاں اس ٹیکنالوجی کے اطلاق کی توقع ہے۔

واٹرمارکنگ کام کیسے کرے گی؟

اے آئی ماڈل جب کوئی جملہ تیار کرتا ہے تو وہ اپنی تربیت کے دوران حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر الفاظ کی ترتیب کا انتخاب کرتا ہے۔ واٹرمارکنگ ٹیکنالوجی اسی عمل میں الفاظ کے مخصوص انتخاب کو ایک پوشیدہ اور مخصوص پیٹرن میں ترتیب دے سکتی ہے۔

یہ پیٹرن صارف کو نظر نہیں آتا اور نہ ہی عام طور پر متن کے معنی یا ظاہری شکل میں تبدیلی کرتا ہے۔ تاہم مخصوص سافٹ ویئر یا ڈیٹیکٹر اس پوشیدہ پیٹرن کو تلاش کرکے اے آئی سے تیار کردہ متن کی نشاندہی کرسکتا ہے۔

کیا واٹرمارک ہمیشہ قابلِ اعتماد ہوگا؟

ماہرین کے مطابق واٹرمارکنگ مفید ٹیکنالوجی ضرور ہے لیکن اسے اے آئی سے تیار کردہ مواد کا حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت قرار نہیں دیا جا سکتا۔

کمپنیوں کا کہنا ہے کہ عام طور پر متن کو کاپی پیسٹ کرنے یا معمولی ترامیم کے باوجود واٹرمارک کا سگنل برقرار رہ سکتا ہے۔ تاہم اگر کسی متن کو بڑے پیمانے پر دوبارہ لکھا جائے، دوسری زبان میں ترجمہ کیا جائے یا مکمل طور پر دوبارہ ٹائپ کیا جائے تو واٹرمارک ختم ہونے کا امکان موجود ہے۔

مزید اہم بات یہ ہے کہ واٹرمارک کا ملنا لازماً یہ ثابت نہیں کرتا کہ پوری تحریر اے آئی نے لکھی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی انسان کی لکھی ہوئی تحریر کو اے آئی کے ذریعے صرف ترتیب، فارمیٹنگ یا تدوین دی جائے تو اس میں بھی واٹرمارک شامل ہوسکتا ہے۔ اسی طرح واٹرمارک نہ ملنے کا مطلب بھی یہ نہیں کہ متن لازماً انسان نے ہی لکھا ہے۔

گوگل کے جیمینائی میں بھی واٹرمارکنگ سے متعلق ٹیکنالوجی موجود ہے، جبکہ اوپن اے آئی بھی چیٹ جی پی ٹی کے لیے ایسی ٹیکنالوجی متعارف کرانے کے امکان کا اظہار کر چکا ہے۔

یوں اے آئی سے تیار کردہ مواد کی شناخت کے لیے ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، تاہم موجودہ مرحلے پر کسی ایک واٹرمارک یا ڈیٹیکٹر کو سو فیصد حتمی ثبوت سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں