پی ایس ایل اونرز کے گلے شکوے

0
11

یہ اپارٹمنٹ تو بہت اچھا ہے، تمام سہولتیں بھی موجود ہیں لیکن کرایہ بہت زیادہ ہے، پھر جتنے عرصے بھی رہ لیں کرایہ کار ہی کہلائیں گے مالکانہ حقوق تو نہیں مل سکتے، ہاں آپ اسے مختلف سرگرمیوں میں استعمال کر کے کچھ رقم کما سکتے ہیں،البتہ اس سے کرائے والی رقم بھی پوری نہیں ہو گی، بلڈنگ میں بڑے بڑے لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، ان سے ملاقاتیں ہوں گی، آپ مشہور بھی ہو جائیں گے، اگر اچھی حکمت عملی بنائی تو شاید مستقبل میں آمدنی بھی ہونے لگے لیکن فوری طور پر تو کروڑوں کا نقصان ہی اٹھانا پڑے گا۔اگر کسی بزنس مین کو کوئی پہلے ہی یہ تصویر دکھا دے تو کیا وہ ایسے پروجیکٹ پر سرمایہ کاری کرے گا؟ شاید بیشتر انکار ہی کر دیں لیکن جانتے بوجھتے ہوئے کوئی اس میں شامل ہو اور صبر کیے بغیر منافع نہ ہونے کا شکوہ کرنے لگے تو قصوروار وہی کہلائے گا۔پی ایس ایل میں بھی ایسا ہی ہے، علی ترین چلاتے رہے کہ مجھے نقصان ہو رہا ہے اور پھر سخت باتوں کی وجہ سے ملتان سلطانز فرنچائز ہاتھ سے نکل گئی، ان سے پہلے والے اونرز بھی نقصان کا رونا رو کر چلے گئے تھے، ترینز نے ان سے سبق نہ لیا اور مزید زیادہ قیمت پر فرنچائز خرید لی، چونکہ اپنا کوئی فنانشل ماڈل نہ تھا لہذا جب تک عالمگیر صاحب حیات تھے سب چلتا رہا جیسے ہی ان کا انتقال ہوا اور علی اونر بنے تو انہیں اکائونٹس دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ یہ تو بہت گھاٹے کا سودا ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں