طبی ماہرین کے مطابق اس ورزش کو یوگا میں ’ویپریتا کرانی‘کہا جاتا ہے۔ اس پوزیشن میں ٹانگیں جسم کے اوپری حصے سے بلند ہونے کے باعث خون اور جسمانی رطوبتوں کی گردش بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جو افراد طویل وقت تک بیٹھے یا کھڑے رہتے ہیں، دفتری کام کرتے ہیں یا مسلسل سفر کرتے ہیں، ان کے لیے یہ ورزش خاص طور پر مفید ہو سکتی ہے۔
پاؤں میں سوجن کی عام وجوہات کیا ہیں؟
ماہرین برائے اسپورٹس میڈیسن اور بحالیِ صحت کے مطابق زیادہ دیر بیٹھنے یا کھڑے رہنے کے علاوہ گرم موسم، نمک کا زیادہ استعمال، حمل، طویل سفر اور خون کی کمزور گردش بھی پاؤں اور ٹخنوں میں سوجن کا باعث بن سکتی ہے۔
ورزش کرنے کا آسان طریقہ
اس ورزش کے لیے دیوار کے قریب کمر کے بل لیٹ کر ٹانگوں کو دیوار کے ساتھ سیدھا اوپر اٹھایا جاتا ہے۔ سر، کندھے اور کمر زمین پر رکھے جائیں جبکہ بازو جسم کے اطراف میں ڈھیلے چھوڑ دیے جائیں۔
ماہرین کے مطابق گہری اور پرسکون سانسیں لیتے ہوئے 5 سے 10 منٹ تک اسی پوزیشن میں رہنا کافی ہے۔
کیا فوائد حاصل ہو سکتے ہیں؟
ماہرین کے مطابق اس پوزیشن سے پاؤں اور ٹخنوں کی سوجن اور بھاری پن میں کمی، تھکے ہوئے پیروں کو آرام، خون کی گردش میں بہتری اور ذہنی تناؤ میں کمی میں مدد مل سکتی ہے۔ بعض افراد کو اس کے نتیجے میں بہتر نیند اور مجموعی جسمانی سکون بھی محسوس ہو سکتا ہے، جبکہ طویل سفر کے بعد ٹانگوں کی تھکن کم کرنے میں بھی یہ ورزش معاون ثابت ہو سکتی ہے۔
کن افراد کے لیے زیادہ مفید؟
دفاتر میں طویل وقت بیٹھنے والے افراد، اساتذہ، طبی عملہ، زیادہ سفر کرنے والے افراد، ورزش کرنے والے اور عمر رسیدہ افراد اپنی روزمرہ روٹین میں اس سادہ ورزش کو شامل کر سکتے ہیں۔
کن افراد کو احتیاط کرنی چاہیے؟
ماہرین کے مطابق شدید یا بے قابو بلند فشارِ خون، آنکھوں کے بعض امراض، گردن یا کولہے کی سرجری، سنگین قلبی یا دورانِ خون کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو یہ ورزش شروع کرنے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
کن صورتوں میں فوری طبی امداد ضروری ہے؟
اگر پاؤں میں اچانک سوجن ظاہر ہو، صرف ایک ٹانگ سوج جائے، سوجن کے ساتھ درد، سرخی یا غیر معمولی گرمی محسوس ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح سانس لینے میں دشواری یا سینے میں درد کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
ماہرین کے مطابق ٹانگیں دیوار پر رکھنے کی یہ ورزش روزمرہ آرام اور جسمانی سکون کے لیے معاون ہو سکتی ہے، تاہم مسلسل یا غیر معمولی سوجن کسی طبی مسئلے کی علامت بھی ہو سکتی ہے، اس لیے ایسی صورت میں یہ ورزش طبی علاج کا متبادل نہیں۔



