آپریشن سندور: بھارت کی دستاویزی فلم اور نیا بیانیہ…. ایک اور بھونڈی کوشش

0
5

آپریشن سندور کا اعلان کرتے ہوئے بھارت کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان کا جواب بھارت کی پوری عسکری طاقت کا نشہ ہرن کردے گا۔ اس آپریشن کو ایک سال سے زائد ہوچکا ہے۔ پاکستان نے اس سال جشنِ آزادی کو اسلام آباد معرکۂ حق یادگار کا افتتاح کر کے منایا جو کہ بھارت کی شکست کی ایک علامت بھی ہے۔ جب کہ بھارت نے اپنے یوم آزادی پر ایک دستاویزی فلم جاری کی ہے جس میں اس نے اپنے بیانیے کو ازسرِ نو مرتب کرنے اور فوجی کارروائی کی ذمہ داری وزیر اعظم نریندر مودی کے سر سے اتار کر پوری سیاسی اور عسکری قیادت پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ دستاویزی فلم ڈی کلاسیفائیڈ آپریشن سندور نے پاک بھارت معرکے کے حوالے سے ماضی کے دعوؤں کے برعکس ایک نیا بیانیہ تراشنے کی کوشش ہے۔

اس دستاویزی فلم میں پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری رہنے والے 88 گھنٹے پر محیط فوجی تصادم کو بھارتی فوج کے وار روم کی فرضی داستان کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ گزشتہ سال اپریل میں بھارت کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد یہ بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے آپریشن سندور کا حکم دیا ہے۔ پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارتی حکومت، حکمران جماعت اور میڈیا میں یہی راگ الاپا جارہا تھا کہ نریندر مودی پاکستان سے بدلہ لیں گے۔

اس جنگ میں بدترین شکست کے بعد حالیہ دستاویزی فلم میں بھارت نے اس بیانیے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے یہ ظاہر کیا ہے کہ آپریشن سندور کا فیصلہ بھارت کی سیاسی اور عسکری قیادت نے مل کر کیا تھا۔ اس دستاویزی فلم میں بھارت کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انیل چوہان، آرمی چیف جنرل اپندر دویدی، بھارتی فضائیہ کے سربراہ اے پی سنگھ اور دیگر اعلیٰ فوجی افسران شامل ہیں۔ مگر یہ دستاویزی فلم سے زیادہ بھارتی ٹی وی چینلوں پر نشر ہونے والا ڈرامہ زیادہ لگتی ہے۔ اس دستاویزی فلم میں کسی آزاد ذرائع سے کوئی معلومات، یا انٹرویو شامل نہیں کیا گیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ حکمران جماعت نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک نڈر لیڈر کے طور پر پیش کرنے کے لیے پہلگام کے فالس فلیگ آپریشن کے بعد آپریشن سندور کا فیصلہ کیا۔ اور یہ تاثر دیا گیا کہ نریندری مودی نے پاکستان کو سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ بات کہ بھارتی فوج نے یہ کارروائی سیاسی دباؤ میں کی تھی اس کا ثبوت انڈونیشیا میں تعینات بھارت کے دفاعی اتاشی کیپٹن شیو کمار کا 10 جون 2025ء میں جکارتا میں ایک سیمینار میں دیا جانے والا بیان ہے۔ اس میں شیو کمار نے اعتراف کیا کہ آپریشن سیندور کے ابتدائی مرحلے میں بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں کا نقصان ہوا۔ اس نقصان کی ذمہ داری سیاسی قیادت پر ڈالتے ہوئے شیو کمار نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت نے انہیں پاکستانی فوجی یا دفاعی تنصیبات کو نشانہ نہ بنانے کا حکم دیا تھا۔

اس دستاویزی فلم میں یہ غلط بیانی بھی کی گئی ہے کہ بھارت فضائیہ نے سات مئی کو پہلا حملہ کیا جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بھارتی فضائیہ اس سے قبل کئی مرتبہ کوشش کر چکی تھی۔ مگر ہمہ وقت چوکنا اور مستعد پاک فضائیہ کی وجہ سے اسے ہر مرتبہ پیچھے ہٹنا پڑا تھا۔

ایک اور جھوٹ یہ کہ پاکستان نے بھارتی عسکری طاقت سے مرعوب ہو کر جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ اس دستاویزی فلم میں بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل راجیو گھائی کا انٹرویو بھی شامل ہے جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کی گئی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ 10 مئی کی صبح ہونے والی پریس بریفنگ میں ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے یہ اعتراف کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ اور میزائلوں نے بھارتی ایئر فورس کو نشانہ بنایا ہے جس میں بھارتی فضائیہ کے جنگی آلات اور متعدد افراد کو نقصان پہنچا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹھان کوٹ، ادھم پور، آدم پور، بھوجو کے مقامات پر بھارتی فضائیہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ادھم پور وہی ایئر بیس ہے جس پر پاکستان نے ایس فور ہنڈرڈ ڈیفنس نظام کو کام یابی سے نشانہ بنایا تھا۔ ایس فور ہنڈرڈ بھارت نے روس سے خریدے تھے۔ اور اس نظام کے بارے میں دعویٰ تھا کہ یہ پاکستانی حملوں کو روک سکے گا۔ مگر یہ نظام بری طرح ناکام ہو گیا۔ پاکستان کے دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لیے نریندر مودی نے ادھم پور کے ایئر بیس کا دورہ بھی کیا تھا اور ایک تصویر جاری کی گئی تھی، جس کے عقب میں ایس فور ہنڈرڈ کا میزائل لانچر دکھایا گیا تھا۔ جس کے بعد بھارتی میڈیا نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ پاکستان کا دعویٰ غلط ہے۔ مگر بعدازاں ایس فور ہنڈرڈ کے ٹیکنیشن کی موت کی خبر سے اس مقام پر پاکستان کے حملے کی تصدیق ہوئی۔ اسی پریس بریفنگ میں ونگ کمانڈر ویو میکا سنگھ نے یہ الفاظ کہے جو پاکستان کے آپریشن بنیان المرصوص کی کام یابی کا اعتراف بھی ہیں: India does not want escalation, provided Pakistan also does the same

یعنی بھارت پاکستان کے ساتھ لڑائی کو مزید نہیں بڑھانا چاہتا۔ اور 10 مئی کی صبح کہاکہ پاکستان خود کو روکے تو ہم مزید جنگ نہیں کریں گے۔ یہ سب دنیا کے سامنے ہے اور تاریخ کا حصّہ ہے، مگر عیّار مودی سرکار نے بھارتی عوام کو اس دستاویزی فلم کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ اس نے اپنی عسکری طاقت کے زور پر پاکستان کو جنگ میں پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور اس عمل کو ایک حکمتِ عملی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

جنگ بندی کے حوالے سے دستاویزی فلم میں غیر ملکی سفارت کاری کا ذکر تو کیا گیا ہے۔ مگر بھارت نے یہ مؤقف اپنایا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے لیے امریکا کو نہیں کہا تھا اور یہ تأثر دینے کی کوشش کی ہے کہ بھارت مزید جنگ کے لیے ہر طرح تیار تھا۔ بھارتی حکومت اندرونی سیاست اور اپنے مضبوط امیج کو برقرار رکھنے کے لیے بیرونی ثالثی سے انکار کرتی ہے جب کہ بین الاقوامی میڈیا اور ریکارڈ کے علاوہ خود دستاویزی فلم کے حقائق اس کے پسِ پردہ امریکی کردار کی گواہی دیتے ہیں۔

اس سے قبل 9 مئی کو آپریشن سیندور کے حوالے سے دی گئی بریفنگ میں بھارتی عسکری حکام نے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت پر 300 سے 400 ڈرونز حملے ہوئے۔ اس بریفنگ کے دوران سیکریٹری خارجہ وکرم مسری نے کہا تھا کہ ہم جنگ کو نہیں بڑھانا چاہتے۔

دستاویزی فلم میں ایک کوشش یہ بھی کی گئی ہے کہ پاکستان کے ہاتھوں بھارتی فضائیہ کو پہچنے والے نقصان کی نفی کی جاسکے۔ ڈاکیومینٹری میں ایک طرف بھارت کی عسکری مہم کو “سو فیصد کام یاب” اور یک طرفہ فتح کے طور پر دکھانے کی کوشش کی گئی ہے، جب کہ خود فلم میں مختلف مواقع پر شامل کردہ شواہد اس بیانیے کی نفی کرتے ہیں۔

پاکستانی مسلح افواج کی بریفنگ اور پاکستانی ذرایع ابلاغ کی رپورٹنگ کو ایک طرف رکھ دیا جائے اور پاکستان کے مقابلے میں اکثر بھارت کی حمایت کرنے والے مخصوص غیر ملکی چینلوں اور دیگر ذرایع ابلاغ کی رپورٹوں کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوگا کہ دستاویزی فلم کے ذریعے بھارتی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دراصل اس فلم میں یہ دعویٰ‌ کہ بھارتی مسلح افواج کو پاکستان کی جانب سے حملوں میں معمولی اور اکثر حملوں میں کوئی نقصان نہیں ہوا، اسی غیر ملکی میڈیا کی رپورٹوں سے مطابقت نہیں رکھتا جو بھارت کو سپورٹ کرتا رہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا نے سات مئی کی صبح اجالا پھیلنے سے قبل ہی بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے گرنے کی خبر جاری کر دی تھی۔ اور یہ خبریں پاکستان کے دعوے کے بجائے بھارتی حکام اور عینی شاہدین کے بیانات کے بعد نشر کی گئی تھیں۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز نے سات مئی کو مقبوضہ کشمیر میں مقامی انتظامیہ کے حوالے سے یہ تصدیق کی تھی کہ بھارتی فضائیہ کے کم از کم تین طیارے زمیں بوس ہوگئے ہیں۔ الجزیرہ سمیت متعدد نیوز ٹی وی چینلوں نے کشمیر میں ان مقامات کو سیل کرنے اور نقل و حرکت بند کرنے کی بھی تصدیق کی تھی جہاں یہ طیارے گر کر تباہ ہوئے تھے۔

اسی طرح امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی بھارت کے تین طیاروں کے تباہ ہونے کی اطلاع دی جس میں سے دو مقبوضہ کشمیر میں اور ایک بھارتی پنجاب میں گرا تھا جس کی تصدیق عینی شاہدین اور پھر پولیس نے کی تھی۔
اس کے بعد لڑاکا طیارے بنانے والی کمپنی رافیل نے بھی بھارتی جنگی طیاروں کے نقصانات پر رپورٹ دی۔ 8 مئی کو رائٹرز نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ پاکستانی J-10 طیاروں نے کم از کم دو بھارتی جنگی طیارے مار گرائے ہیں۔ پاکستان نے اس وقت پانچ طیارے جن میں تین رافیل شامل تھے مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔

اسی طرح بھارت کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف انیل چوہان نے خود بھی یہ تسلیم کیا کہ انہیں ابتدائی طور پر نقصان اٹھانا پڑا۔ انیل چوہان نے 31 مئی 2025ء کو رائٹرز کو بتایا کہ بھارت کو ابتداً فضائی نقصانات اٹھانا پڑے تھے مگر انہوں نے نقصانات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا تھا۔ اس انٹرویو میں انیل چوہان نے یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی تباہی کے بعد تین دن تک ان کی فضائیہ کو مکمل طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا تھا۔ اور اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کرتے ہوئے تین دن بعد لڑاکا طیاروں کو فضا میں پرواز کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد رائٹرز نے مزید رپورٹ کیا کہ فرانس کے اعلیٰ فضائیہ حکام نے بھی تین بھارتی طیاروں کے نقصان کی تصدیق کی تھی۔ یہ وہ جنگی حقائق ہیں‌ جو دنیا کے سامنے ہیں۔ دوسری طرف بھارت نے رافیل سمیت متعدد طیارے مار گرانے کی عالمی میڈیا میں خبروں پر محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے پہلے نقصان کا اعتراف کیا، بعد ازاں اس سے مکر گئے مگر یہ سب تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔ اس جنگ کے بعد پہلی مرتبہ غیر معمولی طور پر بھارت نے اپنی مسلح افواج کی قیادت کو آگے کیا اور ان کے خصوصی انٹرویو ریکارڈ کرائے۔ اس طرح معلومات کے تمام ذرائع بھارتی مسلح افواج ہیں۔ اس دستاویزی فلم کو ایک اعجوبہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا جسے خود بھارتی ذرائع ابلاغ نے بھی جذبۂ حب الوطنی پر مبنی فلم قرار دیا ہے۔ بھارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس میں تجزیاتی گہرائی کا بھی فقدان ہے۔ اس دستاویزی فلم کا ایک بڑا اور واضح مقصد یہ ہے کہ عوام کو باور کرایا جائے کہ آپریشن سیندور صرف بھارتی وزیر اعظم کا فیصلہ نہ تھا بلکہ پاکستان پر حملہ کرنے کا فیصلہ سیاسی اور عسکری قیادت میں ہم آہنگی کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ بھارت اس فلم کے ذریعے سب سے خطرناک بیانیہ ترتیب دے رہا ہے کہ وہ جب چاہے پاکستان کے خلاف آپریشن سیندور ٹو شروع کرسکتا ہے۔ اس بیانیے سے بھارت کے جارحانہ عزائم کا اظہار ہوتا ہے اور جنوبی ایشیا میں اب بھی جنگ کا خطرہ موجود ہے۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں