ایپل کے پہلے فولڈ ایبل آئی فون، جسے مبینہ طور پر آئی فون الٹرا بھی کہا جا رہا ہے، نے ابتدائی طور پر صارفین کو کافی حد تک متاثر کردیا ہے، تاہم اس کے کیمرہ سیٹ اپ پر کچھ صارفین تحفظات کا اظہار کرسکتے ہیں۔
بلومبرگ کے صحافی مارک گرمن نے اپنے تازہ پاور آن نیوز لیٹر میں بتایا ہے کہ جن افراد کو مبینہ طور پر فولڈ ایبل آئی فون استعمال کرنے کا موقع ملا، انہوں نے اس کے جیب میں آسانی سے فٹ ہونے، مجموعی احساس اور مضبوط قبضہ (ہِنج) ڈیزائن کو سراہا ہے۔

ابتدائی طور پر ٹیسٹرز نے فون کھولنے کے بعد بڑے اندرونی ڈسپلے پر آئی پیڈ جیسے ایپ لے آؤٹ کو بھی پسند کیا ہے جو بڑی اسکرین سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیداواری سرگرمیوں، ویڈیو دیکھنے اور گیمنگ کے تجربے کو بہتر بناتا ہے۔
گرمن کے مطابق فولڈ ایبل آئی فون کیمرہ ویو فائنڈر کے طور پر بھی اچھی کارکردگی دکھاتا ہے، تاہم اس میں ٹیلی فوٹو لینس شامل نہ ہونے کی توقع ہے۔
ممکنہ طور پر 2 ہزار ڈالر سے زائد قیمت والے فون میں ٹیلی فوٹو کیمرے کی عدم موجودگی کچھ صارفین کو خریداری سے روک سکتی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ڈیوائس میں دو کیمروں پر مشتمل رئیر کیمرہ سسٹم دیا جائے گا، جس میں 48 میگا پکسل کا مرکزی کیمرہ اور الٹرا وائیڈ لینس شامل ہوگا۔
فولڈ ایبل آئی فون میں ان ڈسپلے فیس آئی ڈی کے بجائے سائیڈ بٹن میں موجود ٹچ آئی ڈی استعمال کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ یہ تبدیلی فون کو کھولنے پر تقریباً 4.5 ملی میٹر پتلا رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔
ڈیزائن کے اعتبار سے آئی فون الٹرا میں تقریباً 5.5 انچ کا بیرونی ڈسپلے اور فون کھولنے پر تقریباً 7.8 انچ کا اندرونی ڈسپلے ہونے کی توقع ہے، جس سے یہ کتاب کی طرح کھلنے والے فولڈ ایبل فون کی شکل اختیار کرے گا۔

رپورٹس کے مطابق ایپل اپنا پہلا فولڈ ایبل آئی فون آئی فون 18 پرو اور آئی فون 18 پرو میکس کے ساتھ تقریباً 9 ستمبر کو ہونے والی تعارفی تقریب میں متعارف کرا سکتا ہے۔
ڈیوائس کی ابتدائی قیمت تقریباً 2 ہزار ڈالر بتائی جارہی ہے جبکہ زیادہ اسٹوریج والے ماڈلز کی قیمت 2ہزار 500ڈالر سے بھی تجاوز کرسکتی ہے۔



