تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں لال کرتی میں شوہر اور ملازم کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل ہونے والی حنا جاوید کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی، جس میں مقتولہ کے جسم پر متعدد زخموں کی نشاندہی ہوئی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بتایا گیا کہ حنا جاوید کی گردن کی ہڈی ٹوٹی ہوئی تھی، جبکہ پسلیوں اور کولہے کی ہڈی پر بھی زخموں کے نشانات موجود تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقتولہ کے دل کے گرد خون بھی بھرا ہوا تھا۔
رپورٹ میں کہنا تھا کہ حنا جاوید کا پوسٹ مارٹم موت کے تقریباً 12 گھنٹے بعد ڈاکٹر ماریا خالد نے کیا تاہم مقتولہ کے ڈی این اے سیمپلز بھی حاصل کرکے فرانزک لیبارٹری بھجوا دیے گئے ہیں۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر موت کی وجہ کا واضح تعین نہیں ہوسکا، حتمی وجہ موت جاننے کے لیے مختلف نمونے فرانزک لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حنا جاوید کو مبینہ طور پر ان کے شوہر نے پھندا دے کر لٹکایا تھا، تاہم موت کی حتمی وجہ فرانزک رپورٹس موصول ہونے کے بعد واضح ہوگی۔
پولیس کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم کے لیے حاصل کیے گئے فرانزک نمونے لیڈی کانسٹیبل رافعہ تبسم نے وصول کیے، حنا جاوید کے قتل کا مقدمہ ان کے بھائی فہد جاوید کی مدعیت میں تھانہ سول لائنز میں درج ہے۔
پولیس نے مقتولہ کے شوہر اور گھریلو ملازم کو گرفتار کر رکھا ہے، جبکہ دونوں ملزمان کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کیا جاچکا ہے اور کیس کی مزید تفتیش جاری ہے۔



