پاکستانی عوام کو ایک ایسی عجیب مخلوق کہا جاسکتا ہے، جو ہر بجٹ میں قربانی دیتی ہے، ہر بحران میں صبر کرتی ہے، ہر مرتبہ مہنگائی پر مزید مشکلات جھیلنے کے لیے کمر کس لیتی ہے اور ہر بار حکمرانوں کی یہ بات مان لیتی ہے کہ ملک مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ یہ مشکل دور صرف عوام کے لیے کیوں ہوتا ہے، حکمراں اور مراعات یافتہ طبقے کے لیے کیوں نہیں؟
عوام کی زندگی کو اگر اس ملک کے طبقاتی نظام کی عینک سے دیکھیں تو تصویر کچھ یوں دکھائی دیتی ہے کہ اوپر مراعات یافتہ طبقہ ہے، جس کے لیے مہنگائی شاید کسی سیمینار کا موضوع ہو، اور نیچے وہ عوام ہیں جو ہر نئے دن کے ساتھ اپنی زندگی سے ایک اور آسانی یا سہولت کو خارج کردینے پر مجبور ہیں۔ کبھی آٹا مہنگا، کبھی بجلی، کبھی پیٹرول مہنگا تو کبھی سبزیوں کے دام بڑھ جاتے ہیں اور اب چولھا جلانے کے لیے ایل پی جی بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
جینا تو مہنگا تھا ہی، اب مرنا بھی منہگا سودا ہے!
پیٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو کہا جاتا ہے عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔ ایل پی جی مہنگی ہوتی ہے تو عالمی مارکیٹ، ڈالر، درآمدی اخراجات، ٹرانسپورٹیشن اور طلب و رسد کے فلسفے سامنے آ جاتے ہیں۔ لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ عام آدمی کی آمدن کس عالمی منڈی کے مطابق بڑھتی ہے؟ اس کی تنخواہ میں ڈالر کیوں نہیں آتے؟ اس کی دیہاڑی عالمی منڈی کے حساب سے کیوں نہیں بڑھتی؟ اور اس کے بچوں کی بھوک کو معاشی اعداد و شمار میں کیوں شامل نہیں کیا جاتا؟
اب ذرا ایل پی جی کا حساب دیکھیے۔ سرکاری سطح پر اگر ایل پی جی کی قیمت 279 روپے فی کلو مقرر ہے تو یہی گیس عام صارف تک پہنچتے پہنچتے 480 روپے فی کلو کیسے ہو جاتی ہے؟
279 روپے سے 480 روپے کا یہ سفر آخر کس کی جیب میں جا کر ختم ہوتا ہے؟ کیا راستے میں کوئی ایسا معاشی جادوگر بیٹھا ہے جو فی کلو گیس پر عوام کی جیب سے اضافی رقم نکالنے کا منتر جانتا ہے؟
اگر سرکاری قیمت ایک طرف ہے اور بازار کی قیمت دوسری طرف، تو پھر حکومت کے نرخ نامے کا فائدہ کس کو ہو رہا ہے؟ غریب کو تو قطعاً نہیں۔
کوئٹہ اور دوسرے علاقوں کے شہریوں کا المیہ اس سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ سردی آئی تو قدرتی گیس کم پریشر کا شکار، مگر گیس کا بل پورا۔ چولھا نہیں جلا سکتے تو ایل پی جی خریدیں اور ایل پی جی خریدنے کا مطلب ہے کہ وہ اپنی جیب خالی کریں۔ یعنی بل بھی بھریں، سلنڈر بھی خریدیں اور پھر شکایت بھی نہ کریں۔ قدرتی گیس کے گھریلو صارفین سے بلوں کی شکل میں رقم وصول کرنے کے باوجود بھی اگر ان کی بنیادی ضرورت پوری نہ کی جائے اور انہیں ایل پی جی خریدنی پڑے تو یہ صرف مہنگائی نہیں، انتظامیہ کی ناکامی کا ثبوت ہے۔
کوئٹہ میں ایل پی جی 480 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ چھوٹے وینڈرز سے سوال کیا جائے تو وہ ترسیل میں مشکلات اور اس پر اخراجات کی تفصیل بیان کرنے لگتے ہیں۔ اندرونِ بلوچستان گیس پہنچانے کے لیے گاڑیوں کا کرایہ، طویل فاصلہ، سڑکوں پر مسائل اور دیگر اخراجات یقیناً بہت ہیں، لیکن پھر وہی سوال کہ ہر بوجھ صارف ہی کیوں اٹھائے؟
سرکاری قیمت اور انتظامیہ
انتظامیہ کا کام صرف نرخ مقرر کرنا ہے یا ان پر عمل درآمد کروانا بھی اس کی ذمہ داری ہے؟
اگر سرکاری قیمت 279 روپے ہے اور صارف 480 روپے ادا کر رہا ہے تو تقریباً دگنی قیمت وصول کرنے والوں کو قانون اپنی گرفت میں کب لے گا یا ایسا نہیں ہوگا؟
ملک دیگر حصوں میں بسنے والے ہر عام آدمی کی طرح بلوچستان کا عام آدمی بھی معاشیات کے پیچیدہ فارمولوں سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔ اسے ڈالر کی قدر، عالمی مارکیٹ یا درآمدی لاگت کی اصطلاحیں نہیں سمجھ آتیں۔ اسے صرف یہ معلوم ہے کہ گھر کا چولھا جلانا ہے۔ ایک مزدور جو صبح سویرے روزگار کی تلاش میں نکلتا ہے، شام کو کھانا لے کر گھر جانا چاہتا ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھ سکتا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت کتنی ہے۔ اسے صرف یہ فکر رہتی ہے کہ اس کی جیب میں کتنے روپے ہیں اور گھر کے اخراجات کتنے ہیں۔
ایک غریب آدمی پہلے بھی غیر ضروری اور اضافی اخراجات کا تصور نہیں کرسکتا تھا مگر اب تو بنیادی ضروریات بھی اس کے لیے عیاشی بنتی جا رہی ہیں۔ گوشت مہنگا ہے تو چھوڑ دو، پھل مہنگے ہیں تو نہ کھاؤ، بجلی مہنگی ہے تو پنکھا نہ چلاؤ، ایل پی جی مہنگی ہے تو لکڑی جلا لو اور لکڑی بھی مہنگی ہے تو پھر…؟
کیا غریب اپنے گھر کا چولھا بھی بیچ دے؟
حکومتیں ہر بار عوام کو صبر کا درس دیتی ہیں۔ لیکن صبر بھی آخر ایک حد تک ہوتا ہے۔ جب گھر کے بجٹ میں مسلسل کٹوتی کرنا پڑے اور آمدن وہیں کھڑی رہے اور اشیائے ضرورت کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں تو صبر نہیں، بے بسی جنم لیتی ہے جو کسی بھی معاشرے کے لیے خطرناک ہوتی ہے۔
حکمرانوں سے سوال ہونا چاہیے کہ عوام ہی ہر بحران کی قیمت کیوں ادا کریں
جب خزانے پر بوجھ پڑتا ہے تو سب سے پہلے عوام کی جیب کیوں دیکھی جاتی ہے اور جب اخراجات بڑھتے ہیں تو سبسڈی کم کیوں ہوتی ہے؟ جب عالمی سطح پر تیل یا دوسری اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو نرخ فوراً اوپر کیوں جاتے ہیں، لیکن جب عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں اتنی دیر کیوں لگتی ہے؟
سب سے اہم سوال
اگر حکومت سرکاری سطح پر نرخ مقرر کرتی ہے تو دکان داروں اور کاروبار کرنے والوں سے اس پر عمل کون کروائے گا؟ صرف کاغذ پر نرخ مقرر کرکے حکومت کی ذمہ داری ختم نہیں ہوجاتی۔ عوام کو نرخ نامہ نہیں، ریلیف چاہیے۔
کوئٹہ اور گرد و نواح کی آبادی آج دہرے عذاب میں مبتلا ہے۔ ایک طرف گیس کا کم پریشر، دوسری طرف مہنگی ایل پی جی۔ یعنی ریاستی نظام کی ناکامی کا بل بھی عوام ادا کریں اور متبادل ایندھن کا خرچ بھی عوام ہی اٹھائیں۔
یہ صرف ایک گیس سلنڈر کی کہانی نہیں۔ یہ ہر اس گھر کی کہانی ہے جہاں ماں بچوں کے لیے کھانا پکانے سے پہلے یہ سوچتی ہے کہ سلنڈر کتنے دن چلے گا۔ یہ اس باپ کی کہانی ہے جو بازار میں ضرورت کی اشیا کی قیمتیں پوچھ کر خاموشی سے واپس آجاتا ہے کیونکہ جیب خریداری کی اجازت نہیں دیتی۔ اور یہ اس نظام کی کہانی ہے جس میں غریب سے قربانی مانگنے والے بہت ہیں، مگر اس کا بوجھ اٹھانے والا کوئی نہیں۔
اگر 279 روپے کے سرکاری نرخ کے بجائے ایل پی جی 480 روپے میں فروخت ہو رہی ہے تو متعلقہ اداروں کو صرف وضاحت نہیں، اس کے خلاف کارروائی کرنی ہوگی۔ اگر ترسیل کے اخراجات حقیقی ہیں تو ان کی وضاحت ہونی چاہیے۔ اگر ناجائز منافع خوری ہو رہی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ اور اگر نظام میں ہی کہیں خرابی ہے تو اسے درست کرنا ہوگا۔ کیونکہ عوام کو ہر بار یہ کہہ کر خاموش نہیں کرایا جا سکتا کہ حالات مشکل ہیں۔ حالات مشکل نہیں، عوام کے لیے مشکل بنائے جا رہے ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ متعلقہ ادارے اعداد و شمار، نرخ ناموں اور اجلاسوں سے باہر نکلیں۔ کیوں کہ عوام کا چولھا جب مسلسل ٹھنڈا رہنے لگے تو صرف کھانا پینا نہیں رکتا، بلکہ نظام سے ان کے اعتماد کی حرارت بھی چھین لیتا ہے۔



