کراچی : دن میں گرمی اور رات کو خنکی، کراچی کے شہری بدلتے موسم کے باعث نزلہ، زکام، کھانسی اور گلے کی خشکی سمیت مختلف طبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں ان سے کیسے بچا جائے؟۔
ماہرِین صحت شہریوں خصوصاً بچوں، بزرگوں اور پہلے سے بیماریوں میں مبتلا افراد کو موسم کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ فضائی آلودگی سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے حکیم امجد اسماعیل نے کہا کہ کراچی میں موسم کا ایک ایسا پیٹرن دیکھنے میں آرہا ہے جس میں دن کے اوقات میں گرمی محسوس ہوتی ہے جس کے باعث جسم کو بار بار بدلتے درجہ حرارت کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موسم کی تبدیلی کے ساتھ نزلہ، زکام اور کھانسی جیسی شکایات عام ہیں، تاہم کراچی میں ایک اور اہم مسئلہ شدید دھول، مٹی اور فضائی آلودگی بھی ہے۔
حکیم امجد اسماعیل کے مطابق دل اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا افراد کو ایسے موسم میں خصوصی احتیاط کی ضرورت ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سرد موسم میں بعض افراد میں دل اور خون کی گردش سے متعلق مسائل بھی بڑھ سکتے ہیں۔
پانی کا استعمال کم نہ کریں
حکیم امجد اسماعیل کا کہنا تھا کہ خشک موسم میں اکثر لوگوں کو پیاس کم محسوس ہوتی ہے، جس کے باعث وہ پانی کا استعمال بھی کم کردیتے ہیں، حالانکہ جسم کو پانی کی ضرورت برقرار رہتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بچوں اور عمر رسیدہ افراد پر خاص توجہ دی جانی چاہیے اور انہیں وقفے وقفے سے پانی پلاتے رہنا چاہیے۔
اس کے علاوہ سردیوں میں بعض افراد میں پیشاب کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جبکہ پانی کا استعمال کم ہوجاتا ہے، اس لیے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوسکتی ہے۔ انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ موسم سرد ہونے کے باوجود پانی کے استعمال میں غفلت نہ برتیں۔
یخنی اور گرم مشروبات کا استعمال مفید
حکیم امجد اسماعیل نے موسم کی شدت سے بچاؤ کے لیے یخنی، سوپ اور مختلف گرم مشروبات کے استعمال کا مشورہ دیا۔ ان کے مطابق پودینے اور ادرک کا قہوہ بھی اس موسم میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جبکہ بچوں کے لیے شہد کے ساتھ لونگ اور دارچینی کا قہوہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔
یخنی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص اسے استعمال کرسکتا ہے تو روزانہ تقریباً آدھا کپ یا ایک کپ یخنی لی جاسکتی ہے، تاہم مقدار کا تعین فرد کی اپنی ضرورت اور جسمانی کیفیت کے مطابق ہونا چاہیے۔
چائے سے متعلق اہم مشورہ
انہوں نے چائے کے استعمال پر بھی احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ چائے میں موجود کیفین اور اسے زیادہ دیر تک پکانے کے طریقے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق کھانے کے فوراً بعد چائے پینے کا رجحان بھی مناسب نہیں، جبکہ چائے اور سگریٹ کا امتزاج صحت کے لیے مزید نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گرین ٹی کے استعمال میں بھی اعتدال ضروری ہے، جن افراد کو پہلے ہی جسم میں پانی کی کمی محسوس ہو، گلا یا ہونٹ خشک ہوں، انہیں گرین ٹی سے گریز کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص گرین ٹی استعمال کرتا ہے تو اس میں سونف اور چھوٹی الائچی شامل کی جاسکتی ہے۔ ان کے مطابق چھوٹی الائچی گرین ٹی کے اثر کو متوازن کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔



