عام آدمی ہو یا اپنے عہد کی کوئی مشہور شخصیت، ہر انسان اپنی ذات و صفات کا تابع ضرور ہوتا ہے۔ اگر کوئی اپنے حلقۂ احباب میں اپنی خوش دلی، شگفتہ مزاجی اور مہمان نوازی کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے، تو اس کے قریب رہنے والے اس کی شخصی کم زوریوں سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی کو اردو دنیا ایک انشاء پرداز، صاحبِ اسلوب ادیب کے طور پر پہچانتی ہے، جن کی شخصیت کے رنگ عجیب تھے۔ کبھی کسی کے ساتھ بہت اچھے رہتے اور اچانک ہی اس سے بدگمان ہوجاتے۔ جس پر بہت مہربان رہتے، اسی کو ایک روز ملامت کرنے لگتے اور ترکِ تعلق کر بیٹھتے۔ جسے اچھا شاعر یا ادیب مانتے ذرا سی بات پر بگڑ کر اسی کے خلاف ان کا قلم رواں ہوجاتا۔
خواجہ صاحب کی اسی عادت اور مزاج کا تذکرہ شاہد احمد دہلوی جیسے صاحب طرز ادیب نے اپنی کتاب گنجینۂ گوہر میں کیا ہے۔ ملاحظہ کیجیے:
خواجہ صاحب بڑے زندہ دل اور شگفتہ مزاج آدمی تھے۔ حاضر جواب بھی ایسے ہی تھے۔ گھر پر ان کے قریب ٹیلیفون رکھا رہتا تھا۔ دن بھر میں سیکڑوں ٹیلیفون آتے تھے۔ اکثر ایسا ہوتا تھا کہ گھنٹی بجی، خواجہ صاحب نے ٹیلیفون اٹھایا اور بغیر جواب دیے بند کر دیا۔ پھر خود ہی کہتے کوئی گالیاں دے رہا تھا۔
ایک صاحب نے ٹیلیفون پر پوچھا، خواجہ صاحب آپ روزنامچہ تو لکھتے ہیں، شب نامچہ کیوں نہیں لکھتے۔ گھنٹی سن کر خواجہ صاحب نے ٹیلیفون اٹھایا، کوئی صاحب بلّی کی بولی بولے، میاؤں۔ خواجہ صاحب نے بلّے کی طرح کہا، می… آؤں۔ اور اس نے گھبرا کر ٹیلیفون بند کر دیا۔
خواجہ صاحب ذرا سی بات میں ناراض ہو جاتے تھے اور ذرا سی بات میں خوش بھی ہوتے تھے۔ قائد اعظم سے اختلاف ہوا تو عرصۂ دراز تک ان کے خلاف لکھتے رہے۔ پھر ان کے ہم خیال ہوئے تو اس شدت کے ساتھ کہ قرآن کی رو سے مولانا آزاد کے قتل کا فتویٰ اتک دے دیا۔ اس کے بعد پھر مولانا آزاد کے بھی دوست ہو گئے۔ علّامہ اقبال سے خواجہ صاحب کے تعلقات بہت خوشگوار تھے۔ نہ جانے خواجہ صاحب کو کس بات سے رنجش ہو گئی کہ اقبال کو شاعرِ مشرق سے گھٹا کر انھوں نے شاعرِ پنجاب لکھنا شروع کر دیا۔ علاّمہ اقبال نے یہ سوچا کہ یہ تو بہت برا ہوا۔ چنانچہ انھوں نے خواجہ صاحب کو زک دینے کی ایک ترکیب سوچی۔ خواجہ صاحب کو ایک خط لکھا کہ میرے گھٹنے میں مدت سے درد تھا۔ میں نے آپ کا فاسفورس کا تیل مَلا۔ اس سے درد کو افاقہ ہو گیا۔ اس دن سے علاّمہ اقبال پھر شاعرِ مشرق ہوگئے۔ منادی میں فاسفورس کے تیل کا جو اشتہار چھپتا تھا، اس میں شاعرِ مشرق سر محمد اقبال کی رائے ضرور شائع ہوتی تھی۔



