میری یہ تحریر فری لانسرز سے متعلق ہے جس کا آغاز میں شاعرِ مشرق علاّمہ اقبال کے ایک شعر کے اس مصرع سے کررہا ہوں؛
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
اسی مصرعے کے مصداق پاکستانی نوجوانوں کی بڑی تعداد آج اپنی دنیا خود بنا رہی ہے اور یہ نوجوان لاکھوں فری لانسرز ہیں جنھوں نے حکومت اور اداروں سے کسی بات کا شکوہ کرنے، سسٹم سے مایوس ہونے کے بجائے اپنے لیے خود روزگار کا بندوبست کیا اور اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کر رہے ہیں۔
دنیا بھر میں ڈیجیٹلائزیشن کی وجہ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں کئی کام اور روزگار ایسے ہیں جن کے لیے دفتر جانے یا ایک شہر اور کسی ملک میں قیام یا رہائش ضروری نہیں بلکہ جہاں انٹرنیٹ اور اس سے جڑی ٹیکنالوجی دستیاب ہو، وہاں آپ کام شروع کرسکتے ہیں۔ اسی لیے اب قابل اور باصلاحیت نوجوان ڈیجیٹل خانہ بندوش بن گئے ہیں اور وہ انٹرنیٹ کی بدولت ملکوں ملکوں گھومتے پھرتے ہیں اور روزگار حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
فری لانسنگ کے ذریعے آمدن پہلے صحافت، اکاؤنٹنسی اور دیگر شعبوں میں عام تھی۔ مگر ڈیجیٹل دنیا میں فری لانسنگ کی ابتدا موجودہ صدی کے اوائل میں ہوئی اور اپنے شعبے یا کام میں ماہر افراد نے جب اپنے کلائنٹ یا کسی کمپنی کو اپنی خدمات پیش کیں اور بہتر طریقے سے اپنا کام انجام دیا تو ٹیلنٹ کی متلاشی کمپنیوں کو یہ خیال آیا کہ وہ ایک ڈیجیٹل مارکیٹ بنا سکتے ہیں جہاں لوگ اپنے فن اور ہنر کو فروخت کرسکیں۔ خاص طور پر ان ممالک میں کمپنیاں اس کا فائدہ اٹھا سکتی تھیں جہاں ایک طرف تو ہنر مند افراد کی کمی ہے اور دوسرا ایسی خدمات پر فی گھنٹہ بہت زیادہ چارجز طلب کیے جاتے تھے۔ اس طرح ان ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ کمپنیاں ان ملکوں کے ماہر اور ہنرمند نوجوانوں تک پہنچنے لگیں جو اپنے ملکوں میں کام کی تلاش میں تھے۔ یوں ڈیجیٹل شعبے میں فری لانسنگ کی بنیاد پڑی۔ اور یہی فری لانسنگ آج پاکستان میں نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے لیے زرِ مبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ بن گئی ہے۔
ہر نئے شعبے کی طرح پاکستان میں بھی ابتداً فری لانسرز کو کئی مسائل اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس میں سب سے بڑا مسئلہ فری لانسنگ کے ذریعے کمائی ہوئی رقم کی پاکستان منتقلی تھا۔ پاکستان میں اس کا کوئی مربوط نظام موجود نہ تھا کہ بیرونِ ملک سے کوئی کمپنی کسی فرد کو اس کی تنخواہ یا اجرت اس کے اکاؤنٹ میں بھیج سکے۔ اسی مشکل کو حل کرنے کے لیے پاکستان فری لانس ایسوسی ایشن (پیفلا) کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے فری لانسرز کے متعدد مسائل کو حل کیا ہے۔ ان مسائل کے حل ہونے سے پاکستان کے باصلاحیت اور ہنرمند نوجوانوں کی بڑی تعداد نے روزگار کے ڈیجیٹل ذرایع کو اپنایا اور فری لانسنگ کو اختیار کیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ جہاں فری لانسر اپنے کنبے اور اپنی ضروریات کو پوری کررہے ہیں وہیں پاکستان زرِ مبادلہ کی شکل میں کمائی کررہا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں 30 لاکھ سے زائد نوجوان فری لانسنگ سے وابستہ ہیں۔ اگر ہر نوجوان کے ساتھ اس کے پانچ اہلِ خانہ کو شامل کر لیا جائے تو تقریباً ڈیڑھ کروڑ سے زائد افراد کی کفالت فری لانسنگ کے ذریعے ہورہی ہے۔
اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ فری لانسنگ کے لیے حکومت پاکستان یا کسی بھی حکومتی ادارے سے کوئی سبسڈی، سستی بجلی، سستے قرضے، یا کسی قسم کی مراعات فری لانسرز کو میسر نہیں مگر اس کے باوجود حکومت ان نوجوانوں کی وجہ سے 1.76 ارب ڈالر سے زائد کا زرِ مبادلہ حاصل کررہی ہے۔ اور پاکستان فری لانسرز کی چوتھی بڑی کمیونٹی بن گیا ہے۔ اگر کوئی دوسری صنعت ایک ارب ڈالر سے زائد کی برآمدات حاصل کررہی ہوتی تو شور مچا کر اور میڈیا کا سہارا لے کر حکومت سے اپنے لیے سہولیات اور مراعات کا مطالبہ کرتی مگر یہ نوجوان فری لانسرز اس سے بے نیاز اپنے کام میں مگن ہیں اور ملک کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔
فری لانسرز کی یہ کام یابی بڑی فیکٹریوں یا دفاتر سے وابستہ ہوکر، لگے بندھے اور رسمی کام کے تجربے کی بدولت نہیں بلکہ یہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیت، اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے ارادے کی پختگی، اور اس نظم و ضبط کی بدولت ہے جو بین الاقوامی مارکیٹ کے مقابلے میں معیار اور ہمارے ٹیلنٹ کی عکاسی کرتا ہے۔
فری لانسرز نے گھروں، چھوٹے دفاتر اور کام کی مشترکہ جگہوں پر محنت اور مستقل مزاجی سے بیرونِ ملک کمپنیوں اور بین الاقوامی مارکیٹوں کا مقابلہ کیا اور اپنے کلائنٹس کو معیاری خدمات فراہم کیں جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج پاکستان کو فری لانسنگ کے شعبے میں دنیا کی چوتھی بڑی منڈی کہا جارہا ہے۔
اگر ان فری لانسرز میں کچھ خاص اور بڑی کام یابیاں سمیٹنے والوں کی کہانی سنانے بیٹھوں تو یہ تعداد ہزاروں میں ہوگی۔ جس میں حوصلہ ہے، ہمّت ہے، آگے بڑھنے کا عزم ہے، کچھ کر دکھانے خواہش ہے، اور جو خواب دیکھتے ہیں، وہ حکومتی سرپرستی، کسی کے سہارے اور مدد کا انتظار نہیں کرتے بلکہ اپنی صلاحیت کے ساتھ محنت، مستقل مزاجی اور لگن کو اپنا ہتھیار بنا کر میدان میں اتر جاتے ہیں۔ فری لانسنگ ایسویسی ایشن نے مجھے پاکستان کے حقیقی ٹیلنٹ سے ملنے کا موقع دیا ہے۔ میں ایسے نوجوانوں ملا ہوں جنھوں نے غربت کو اپنی کسی محرومی کا جواز نہیں بنایا بلکہ خود پر بھروسا کیا۔ ان میں کئی ایسے نوجوان ہیں جن کے پاس فری لانسنگ کی بنیادی ضرورت یعنی لیپ ٹاپ تک نہ تھا۔ کسی دوست یا عزیز سے لیپ ٹاپ مستعار لیا، یا کچھ رقم لے کر لیپ ٹاپ خریدا اور آج اپنے پیروں پر کھڑے ہیں۔ ان میں وہ خواتین بھی شامل ہیں جن کا کوئی کمانے والا نہ تھا اور زندگی ان کے لیے امتحان بن گئی تھی مگر انھوں نے بے بسی کا رونا نہیں رویا بلکہ فری لانسنگ کو اپنایا اور باعزت زندگی گزار رہی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ ان فری لانسرز کی بڑی تعداد کسی بڑی یورنیورسٹی یا انسٹیٹوٹ سے ہزاروں لاکھوں روپے فیس کی مد میں دینے کے بعد ملنے والی ڈگری نہیں رکھتی۔ نہ ہی انھیں شہری زندگی کے وسائل اور معیاری و تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت میسر تھی۔ یہ ملک کے چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہات کے لڑکے اور لڑکیاں ہیں جنھوں نے انٹرنیٹ پر ویڈیوز دیکھ کر ٹیوٹوریل پڑھ کر ڈیجیٹل خدمات کے مختلف شعبہ جات میں مہارت حاصل کی اور خود کو کسی قابل بنایا۔ اس شعبہ میں روز افزوں ترقی اور حال و مستقبل میں اس کی بے پناہ اہمیت کو دیکھتے ہوئے یہ ضروری تھا کہ پالیسی سازوں کو اس جانب متوجہ کیا جائے اور ان نوجوانوں کی اہمیت ان پر واضح کی جائے۔ پیفلا نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔ کیوں کہ جب یہ فری لانسرز بینک جاتے تو ان کا اکاؤنٹ آسانی سے نہیں کھولا جاتا تھا۔ اگر یہ کام ہوجاتا تو بیرونِ ملک سے ترسیلات لانے کا کوئی قانونی طریقہ موجود نہ تھا۔ کوئی مناسب اور حتمی ٹیکس نظام نہیں تھا۔ ہیلتھ انشورنس، کریڈٹ کارڈز، وہیکل فائنسنگ اور ہوم فائنسنگ فری لانسرز کے لیے دستیاب نہیں تھے۔ پیفلا کے شریک بانی فہد شیخ اور راقم نے فری لانسرز کی آواز بننے کا فیصلہ کیا۔ مگر یہ سفر آسان نہ تھا۔ پالیسی سازوں کو فری لانسنگ کی اہمیت کا ادراک تو ہوا مگر ان کے مسائل حل کرنے میں وقت لگا۔ آج فری لانسرز کو اہمیت دی جاتی ہے اور انھیں بینکاری اور بیرون ملک سے رقم کی منتقلی کی قانونی سہولت مل چکی ہے۔ اس کے باوجود اب بھی اس حوالے سے کئی کام ہونے ہیں اور فری لانسرز کو سہولیات دینا باقی ہے۔
دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور آئے دن نئی نئی ٹیکنالوجی سامنے آرہی ہے۔ فری لانسرز کو ان سے روشناس کرانے، بیرونِ ملک ٹیکنالوجی کے ایکو سسٹم کو سمجھنے اور کاروبار کی تربیت دینے کی بہت ضرورت ہے۔ پیفلا اس حوالے سے اپنے شراکت داروں اور حکومت کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔ امید ہے کہ رواں مالی سال کے آخر تک فری لانسرز کی آمدنی دو ارب ڈالر سے تجاوز کر جائے گی۔ میں اپنی تحریر کا اختتام بھی اقبال کے شعر پر کروں گا۔
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشتِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی



