‎آنگن سے اسکرین تک: رشتوں کا بدلتا ہوا سفر

0
2

کچھ رشتے زندگی میں یوں اترتے ہیں جیسے کسی پرانے گھر کے آنگن میں صبح کی دھوپ؛ خاموش، مانوس اور روح کو حرارت بخشنے والے۔ ماں کی فکر، باپ کی ذمہ داری، بہن بھائیوں کی نوک جھونک اور بزرگوں کی دعائیں مل کر زندگی کے کینوس پر ایسے رنگ بھرتے ہیں جن کی چمک وقت کی گرد بھی ماند نہیں کر سکتی۔

خون کے رشتے محض جسمانی نسبتیں نہیں، یہ ہماری ابتدائی یادوں، شناخت اور شخصیت کی وہ جڑیں ہیں جو ہمیں اپنے وجود کی زمین سے جوڑے رکھتی ہیں۔ ایک وقت تھا جب گھر محض اینٹوں کی عمارت نہیں، ایک پوری کائنات ہوتے تھے؛ جہاں خوشیاں مشترکہ چراغوں کی طرح جلتی تھیں اور غم ایک دوسرے کے کندھوں پر سر رکھ کر ہلکے ہو جاتے تھے۔ اختلافات کے باوجود دلوں میں ایک دوسرے کے لیے جگہ باقی رہتی تھی، اور شاید یہی رشتوں کی اصل خوب صورتی تھی۔

‎‎آج زندگی کی رفتار تیز تر اور فاصلے بظاہر سمٹ گئے ہیں، مگر دلوں کے درمیان ایک ان دیکھا فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ رابطے کی اس دنیا میں جہاں ہر شخص ایک لمس سے دور بیٹھے انسان تک پہنچ سکتا ہے، وہیں اپنے ہی گھر میں کسی کی خاموشی تک رسائی مشکل ہو گئی ہے۔ ایک ہی چھت کے نیچے کئی دنیائیں آباد ہیں؛ چہرے سامنے ہیں، مگر نگاہیں اسکرینوں میں قید۔ ہم نے رابطے کے بے شمار دروازے کھول لیے، مگر شاید ایک دوسرے کے دل تک جانے والی کھڑکی بند کر دی ہے۔ روایت کا بدلنا المیہ نہیں، کیونکہ ہر عہد اپنی نئی صورت گری کرتا ہے؛ المیہ تب جنم لیتا ہے جب تبدیلی کے شور میں اپنائیت کی آواز دب جائے اور رشتوں کی روح باقی رہنے کے بجائے صرف ان کی رسمیں زندہ رہ جائیں۔

‎‎ہم نے خونی رشتوں کو بھی اکثر محبت کے بجائے افادیت، کامیابی اور معاشرتی مرتبے کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ ادھر نسلوں کے درمیان ایک خاموش دیوار بلند ہو رہی ہے؛ بزرگ اپنے تجربات کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور نوجوان ماضی کی ہر قدر کو فرسودگی کے خانے میں رکھ دیتے ہیں۔ حالاں کہ محبت کا کمال یکساں سوچ میں نہیں، اختلاف کے باوجود احترام کا چراغ روشن رکھنے میں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ ہر رشتہ بے عیب نہیں ہوتا اور نہ ہر تلخ تجربہ تمام رشتوں کی معنویت چھین سکتا ہے۔ بعض محبتیں لفظوں کے بجائے عمل میں سانس لیتی ہیں، مگر غفلت کو خاموش محبت کا نام دے کر ہمیشہ جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ رشتے صرف نیت سے نہیں، توجہ، وقت اور احساس کی آبیاری سے بھی زندہ رہتے ہیں؛ ورنہ مضبوط دکھائی دینے والی جڑیں بھی اندر ہی اندر خشک ہونے لگتی ہیں۔

‎‎وقت کی ندی کو الٹا نہیں بہایا جا سکتا، نہ گزرے ہوئے عہد کے آنگن بعینہٖ واپس لائے جا سکتے ہیں؛ لیکن بدلتے موسموں میں محبت کے چراغ بجھانا بھی لازم نہیں۔ ہم اپنی مصروفیات کے ہجوم میں کسی کے لیے چند لمحے نکال سکتے ہیں، بزرگوں کے تجربات کو حکم نہیں بلکہ ایک امکان سمجھ کر سن سکتے ہیں اور نئی نسل کو آزادی کے ساتھ تعلق نبھانے کا شعور بھی دے سکتے ہیں۔ خاندان کی اصل میراث زمین، جائیداد یا نام و نسب نہیں، بلکہ وہ بے آواز یقین ہے جو زندگی کی کسی کٹھن شام میں انسان کو احساس دلاتا ہے کہ اس کی موجودگی آج بھی کسی کے لیے معنی رکھتی ہے۔ اگر ہم آنگن سے اسکرین تک کے اس سفر میں دلوں کے چراغ روشن رکھ سکیں، تو زمانہ چاہے جتنی کروٹیں بدلے، رشتوں کی خوشبو کبھی اپنا راستہ نہیں کھوئے گی۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں