رحمۃ للعالمینﷺ ، وجہ تخلیقِ کائنات

0
3

اس روئے زمین پر انسان بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی سب سے خوبصورت اور اشرف مخلوق ہے اور اس کے سر پر اشرف المخلوقات کا تاج کسی اور نے نہیں بلکہ خود خالق کائنات نے سجایا ہے۔اللہ تعالیٰ کا یہ احسان عظیم ہے کہ اس نے انسان کو پیدا فرما کر اسے نہ تو بے یارو مددگارچھوڑا اور نہ ہی اسے شتر بے مہار بنایا بلکہ اس کی تربیت کے لیے ہر دور میں ہر قوم کے لیے اپنے نبی اور رسول بھیجے، جنہوں نے اللہ کے حکم کے مطابق اپنی امتوں کو توحید کا درس دیا اور اپنی طویل عمریں اپنے لوگوں کی اصلاح کے لیے وقف کردیں۔

اس کے باوجود کہ اللہ نے ہر امت کی اصلاح اور تربیت کے لیے کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے جو اپنی اپنی محنت کر کے چلے گئے اور ان کی محنت سے کوئی سدھر گیا تو کوئی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہا اور جن لوگوں نے اللہ کی نافرمانی کی اور اپنے نبیوں کی بات نہ مانی تو پھر ان کے لیے آسمان سے ایسے ایسے عذاب آئے کہ کسی کے وہم و گمان میں نہ تھا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے نبی آنے کا سلسلہ شروع ہو ا اور ہر زمانے میں ہر قوم کے لیے نبی آتے رہے۔ وقت گزرتا رہا ، یہاں تک کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بعد نبی آنے کا سلسلہ رک گیا اور ان کے بعد تقریباً چھ سو سال تک کوئی نبی نہیں آیا۔

یہاں تک کہ عیسوی سال 571 ء آن پہنچا ،جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کے سردار حضرت محمدﷺ کو اس دنیا میں بھیجا اور ایسا بھیجا کہ ان کے بعد قیامت تک کسی اور نبی کی ضرورت نہیں رہی، کیوں کہ آپﷺ پر دین مکمل کر دیا گیا اور کوئی بات ایسی رہ ہی نہیں گئی، کہ جس کے لیے کسی اور نبی کی حاجت باقی رہتی۔

اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کو نہ تو کسی خاص زمانے کے لیے بھیجا اور نہ کسی مخصوص قوم کے لیے ،بلکہ پوری کائنات کے لیے نہ صرف بھیجا بلکہ رحمۃ للعالمین بنا کر بھیجا، جن کے سر پر نبوت کا تاج اللہ تعالیٰ نے اُس وقت سجایا، جب آپﷺ کی عمر چالیس سال ہو گئی۔

غارِ حرا میں پہلی وحی ’ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ‘نازل ہوئی ، تو آپﷺ پر کپکپی طاری ہوگئی۔ سیدھے گھر آئے، اپنی بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بات کی تو انہوں آپ کو حوصلہ دیا کہ آپ لوگوں کے کام آنے والے ہیں۔ اللہ آپﷺ کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اس طرح پھر وحی آنے کا سلسلہ جاری ہو گیا ۔

نبوت کا تاج سجنے کے بعد آپﷺ دس سال مکہ میں رہے اور اللہ کی توحید کا پیغام مشرکوں کو پہنچاتے رہے، مگر وہ لوگ اپنے آبا و اجداد کے مذہب کو چھوڑنے کو تیار نہ تھے۔ الغرض مکہ کے سردار اور ان کی قوم آپﷺ کے خلاف ہو گئے اور تکلیف پہنچانے کا کوئی موقع ہا تھ سے نہ جانے دیتے۔

اس سب کے باوجود آپﷺ نے اپنا کام جاری رکھا، یہاں تک کہ مکہ کے کفار نے آپﷺ کی جان لینے پر انعام مقرر کر دیا۔ یہاں تک کہ مکہ کے سرداروں نے آپﷺ کے چچا حضرت ابو طالب سے کہا کہ ہم محمدﷺ کو مال ودولت اور خوبصورت عورت پیش کر دیتے ہیں اگر وہ ہمارے خداؤں کو برا بھلا نہ کہیں۔

جواب میں آپﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ لوگ میرے ایک ہاتھ پر سورج اور وسرے پر چاند بھی رکھ دیں تب بھی ایسا ممکن نہیں اور پھر دس برس بعد آپﷺ نے مسلمانوں کو مکہ سے مدینہ ہجرت کر جانے کا حکم دیا اور خود بعد میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ رات کے وقت اپنے گھر کے باہر موجود کفار کے درمیان سے نکل کر چلے گئے اور ان سب کو اس کی کچھ خبر نہ ہوئی۔

آپﷺ نے اپنے یارِ غار حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تین دن غار ثور میں قیام کیا اور پھر وہاں سے مدینہ ہجرت فرما گئے۔ پھر سال 632 عیسوی میں دنیا سے پردہ فرمانے تک تیرہ سا ل وہاں گزارے اور ایک ایسی ریاست کی نہ صرف بنیاد رکھی بلکہ اسے پروان بھی چڑھایا کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

وہاں آپﷺ نے مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنا دیا، جسے مواخات کہتے ہیں۔

مدینہ میں مسجد نبویﷺ کی تعمیر ہوئی تو آپﷺ نے صحابہ کے ساتھ مل کر مزدوروں کی طرح کام کیااور جب صحابہ کرام نے پیٹ پر پتھر باندھے تو آپﷺ نے بھی پیٹ پر پتھر باندھے۔

آپﷺ کو اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ، آپﷺ نے اپنی زندگی میں سب لوگوں کا دکھ درد محسو س کیا اور ان کی جہنم سے خلاصی کے لیے محنت کی ۔

آپﷺ کی زندگی قرآن مجید کی عملی تفسیر ہے ۔ آپﷺ کی جلوت اور خلوت ایک کھلی کتاب ہے، جس سے ہر شعبہ زندگی کا ہرفرد عورت و مرد، زندگی گزارنے کا ڈھنگ سیکھ سکتا ہے۔ آپﷺ کی سیرت ہمارے لیے قابل عمل نمونہ ہے ۔

آپﷺ صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مخلوقات کے لیے بھی مجسم رحمت تھے اور اپنی امت کے لیے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتے رہے ۔آپﷺ نے پسے ہوئے اور نچلے لوگوں کو عزت کے تاج پہنائے، جس کی سب سےبڑی مثال حضر ت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں کہ جو ایک غلام تھے اور جب آزاد ہو کر آپﷺ کی خدمت میں آگئے تو بس پھر ان کے نصیب کو خوش قسمتی کے پر لگ گئے۔

اسی طرح آپﷺ کے دنیا میں آنے سے پہلے عورتوں کی بہت بری حالت تھی ۔ ان کو انسان نہیں بلکہ استعمال کی ایک جنس سمجھا جاتا تھا۔ ان کو معاشرے میں بے عزتی کا سبب سمجھا جاتا تھا۔ اسی لیے وہ شقیق القلب لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے، لیکن جب آپﷺ نے ریاست مدینہ قائم کی تو عورت کو وہ مقام دیا جس کا ان کو وہم و گمان بھی نہ تھا ۔

آپ نے اُن کے سر پر عزت کا تاج رکھا، انہیں پوری تعلیمات دیں کہ وہ کیسے زندگی گزاریں ۔ آپﷺ نے بیٹے کو نعمت اور بیٹی کو رحمت قرار دیا اور یہاں تک فرما دیا کہ جس نےچار بیٹیوں کی اچھی تربیت کر کے بیاہ دیا تو وہ جنتی ہے۔

صحابہ نے پوچھا کہ اگر تین بیٹیاں ہو ں تو حضورﷺ نےفرمایا وہ بھی جنتی ہے، یہاں تک کہ معاملہ ایک بیٹی تک آگیا اور اسے بھی جنتی ہونے کی بشارت دی گئی۔

آپﷺ کی بیٹی فاطمہ تشریف لاتیں تو آپﷺ کھڑے ہو جاتے اور اپنی چادر ان کے لیے بچھاتے ۔ کہیں جاتے تو سب سے آخر میں ان سے ملتے لیکن جب واپس آتے تو سب سے پہلے ان سے ملاقات کرتے ۔ فرمایا کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں جب کہ حسن اور حسین جنتی جوانو ں کے سردار ہیں۔

آپﷺ نے نبوت کے 23 سالوں میں سے 10 سال مکہ اور 13 سال مدینہ میں گزارے ۔ آپﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو ارشادات فرمائے وہ ایک ریاست کے لیے اور ایک انفرادی شخص کے لیے ایک آئین اور چارٹر کی حیثیت رکھتے ہیں۔

آپﷺ نے اپنے اس خطبے میں ایسی لازوال حکمتیں بیان فرمائیں کہ اگر کوئی ان پر عمل پیرا ہو تو اس کی دنیا اور آخرت میں کامیابی یقینی ہے۔آپﷺ نے فرمایا کہ گورے کو کالے اور کالے کو گورے پر ، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر کوئی برتری نہیں اور برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے۔

پھر فرمایا تم سب کی جان ، مال اورعزت ایک دوسرے پر محترم ہیں۔ آپﷺ نے شیطان کی پیروی کرنے سے منع فرمایا اور دین کے بنیادی احکام کی پابندی کرنے کی تاکید فرمائی۔ سود سے منع فرمایا اور قرآن و سنت کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھنے کی نصیحت کی۔ عورتوں اور غلاموں کے حقوق واضع کیے اور فرمایا کہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لیے کرتے ہو۔

آپ ﷺ نے دورِ جہالیت کے سود کو ختم کیا اور مساوات کا یک نظام دیا ۔ سب کچھ بیان کرنے کے بعد آپﷺ نے صحابہ سے پوچھا کہ کیا میںﷺ نے اللہ کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیا ؟ اس پر صحابہ نے جواب دیا، جی ہاں آپﷺ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا اور اس پر آپﷺ نے فرمایا اے اللہ گواہ رہنا۔

اللہ تعالیٰ کی ذات کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمیں حضورﷺ کی امت میں پیدا کیاجو کہ بلا شک و شبہ خاتم الانبیا ہیں اور آپ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔

آپﷺ کی امت کےلیے اللہ کا ایک بہت بڑا انعام یہ ہے کہ آپﷺ کی امت پر اللہ تعالیٰ نے ویسا کوئی عذاب نہیں بھیجا جیسا پچھلی امتوں پر بھیجے ۔یہ سب اس نبی رحمتﷺ کے صدقے سے ہے۔ ان عنایات پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

ہم اور پوری دنیا کے مسلمان ہر سال ریبع الاول کے مہینے میں گھر، بازار او ر سرکاری و نجی عمارتیں جھنڈیوں اور جھنڈوں سے سجاتے ہیں۔ محافل میلاد کا انعقاد ہوتا ہے۔ 12 ربیع الاول کو میلاد کے جلو س نکالے جاتے ہیں اور نعت خوانی کے ذریعے حضورﷺ کواپنی محبت پیش کرتے ہیں۔ ربیع الاول کا پورا مہینہ جیسے جشن اور بہار کا مہینہ بن جاتا ہے۔

یہ سب چیزیں بھی اپنی جگہ بجا ہیں اور جو کوئی بھی اپنے طریقے سے حضورﷺ کا میلاد مناتا ہے، اللہ ان سب کو ان کی نیتوں کی بیناد پر اجر دے گا لیکن یہاں اصل بات ہے کہ حضورﷺ نے اپنی جو بھی تعلیمات ارشاد فرمائیں یہ نہیں فرمایا کہ میلاد کے جلوس نکالو، خوبصورت گیٹ بناؤ، رات کو پوری کی پوری فیملی گیٹ دیکھنے نکلے بلکہ آپﷺ کے ارشادات پر عمل پیرا ہونا اصل محبت ہے۔

ہمیں یہ سوچنا ہے کہ حضورﷺ نے اپنی 63 سالہ زندگی کا جو نمونہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے، ہم اس پر عمل پیرا ہیں یا صرف زبانی نعروں، دعووں اور جلوس نکالنے کی حد تک مخلص ہیں۔

اللہ کا شکر ادا کرنے اور حضورﷺ سے محبت کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دین کی تعلیمات پر آپﷺ کی سنت کے مطابق عمل کریں، کیونکہ صرف اسی صورت میں ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

لاکھوں کروڑوں درود و سلام آپﷺ کی ذات پر جو وجہ تخلیق کائنات ہیں اور سارے جہانوں کے لیے رحمت بن کر دنیا میں آئے اور جن کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ بھی ہے اور اس کی پیروی ہمارے لیے کامیابی کی کنجی ہے، جس کے بغیر ہمارا کوئی معاملہ نہیں سدھر سکتا۔

اللہ تعالیٰ اس حوالے سے ہماری مدد و نصرت فرمائے۔ آمین۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں