گھر سے ملنے والی 5 افراد کی لاشیں : خط اور کزن کے بیان نے سوالات کھڑے کردیے

0
8

کراچی (15 اکتوبر 2026): کرائے کے گھر سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی لاشیں ملنے کے معاملہ نے دوسرا رخ اختیار کرلیا، ملنھے والے خط اور کزن کے بیان نے کئی سوالات کھڑے کردیے۔

کراچی کے علاقے گلشنِ حدید کی نجی سوسائٹی میں پیش آنے والے افسوس ناک واقعے نے شہر میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔

نمائندہ اے آر وائی نیوز علی محمد کی رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں میاں بیوی، دو کم سن بچیاں اور خاندان کی ایک خاتون شامل ہیں، واقعے کے بعد پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہیں، تاہم حکام کی جانب سے تاحال اس واقعے کی حتمی وجہ سامنے نہیں لائی گئی۔

مرنے والوں کی شناخت 30 سالہ شاہ زیب، 28 سالہ صبا، 20 سالہ شمائلہ، 5 سالہ ایزل اور تین سال کی آریا کے ناموں سے ہوئی ہے۔

ابتدائی طور پر واقعے کو بظاہر خودکشی قرار دیے جانے کی بات سامنے آئی ہے، تاہم مقامی افراد اور بعض رشتہ داروں نے مزید تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

ملنے والے خط میں مالی مشکلات کا ذکر

واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پولیس کو گھر سے ایک ہاتھ سے لکھا ہوا خط بھی ملا، جس میں مبینہ طور پر خاندان کی شدید مالی مشکلات کا ذکر کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق خط میں گھر کا کرایہ ادا کرنے اور گیس سلنڈر بھروانے تک کے لیے رقم نہ ہونے کا ذکر کیا گیا اور رشتہ داروں سے مدد طلب کرنے کی بات بھی سامنے آئی ہے۔

تفتیش کے دوران گھر سے ایک چھوٹی دیگچی میں معمولی مقدار میں پکے ہوئے چاول ملنے کی بات بھی سامنے آئی، جس سے اندازہ لگایا گیا کہ خاندان مالی طور پر انتہائی مشکل حالات میں زندگی گزار رہا تھا۔

رپورٹس کے مطابق شاہ زیب نامی شخص پہلے اسی علاقے میں اپنا مکان رکھتا تھا، بعد ازاں اسے فروخت کرکے بعد وہ کرائے کے ایک چھوٹے گھر میں منتقل ہوگیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق مکان مالک کا کہنا ہے کہ شاہ زیب اسی سوسائٹی میں ایک نیا گھر بھی تعمیر کرو رہا تھا اور چند روز بعد وہاں منتقل بھی ہونے والا تھا۔

ابتدائی معلومات کے مطابق میاں بیوی کے سر پر گولی لگنے کے نشانات پائے گئے، جبکہ بچوں اور شاہ زیب کی بہن کے بارے میں زہریلی شے کے استعمال کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم ان تفصیلات کی حتمی تصدیق فرانزک اور پولیس تحقیقات کے بعد ہی ہوسکے گی۔

شاہ زیب کے کزن کا بیان

دوسری جانب شاہ زیب اور دیگر کی لاشیں وصول کرنے کیلیے آنے والے کزن علی نے میڈیا کو بتایا کہ بظاہر شاہ زیب کے مالی حالات اتنے خراب نہیں تھے کہ وہ اتنا بڑا قدم اٹھاتا وہ تقریباً ڈھائی کروڑ روپے مالیت کے نئے گھر میں منتقل ہونے والا تھا جس کی وہ تعمیر کروا رہا تھا جبکہ حالیہ دنوں میں اس نے اپنا ایک گھر 3 کروڑ‌ روپے میں‌ فروخت بھی کیا تھا۔

کزن علی نے بتایا کہ 5 سے 6 سال قبل شاہ زیب کی شادی ہوئی تھی جس کے بعد سے اس کا اپنے خاندان سے قطع تعلق تھا۔ اس نے یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا ہمیں اس کا اندازہ نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق شاہ زیب کے کچھ رشتہ دار پنجاب جبکہ بعض بیرون ملک مقیم ہیں، پولیس اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ خاندان کو درپیش مالی مشکلات کس حد تک اس سانحے کا سبب بنے اور گھر سے ملنے والے خط سمیت دیگر شواہد واقعے کے بارے میں کیا بتاتے ہیں۔

مقامی رہائشیوں اور خاندان کے قریبی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی مکمل اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ پانچ افراد کی المناک موت کے پس پردہ اصل حالات کیا ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں