انشورنس پالیسی ہولڈرز کے لیے بڑی خبر ، نئے اور سخت قوانین نافذ

0
3

اسلام آباد : انشورنس صارفین کے تحفظ کے لیے ایس ای سی پی نے کلیمز کی ادائیگی کے لیے نئی ٹائم لائنز تجویز کردی، انشورنس رولز کا اطلاق صرف انفرادی انشورنس پالیسوں پر ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق انشورنس صارفین کے حقوق کے تحفظ کے لیے سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اہم اقدام اٹھاتے ہوئے انشورنس کمپنیوں کے لیے مارکیٹ کنڈکٹ رولز 2026 کا مسودہ عوامی رائے کے لیے جاری کردیا۔

مجوزہ قواعد کا اطلاق صرف انفرادی انشورنس پالیسیوں پر ہوگا، جبکہ ان کا بنیادی مقصد انشورنس کمپنیوں کی جانب سے کلیمز کی بروقت پراسیسنگ، شفافیت اور صارفین کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔

مجوزہ رولز کے تحت انشورنس کمپنیوں کے لیے کلیمز نمٹانے کی لازمی ٹائم لائنز مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے، کمپنیوں کی ذمہ داریاں پالیسی کے اجرا سے لے کر کلیم کی ادائیگی تک واضح کی جائیں گی اور انہیں مقررہ مدت کے اندر کلیمز کی پراسیسنگ اور ادائیگی کرنا ہوگی۔

مجوزہ قواعد میں کہا گیا کہ لائف انشورنس کلیم پر مطلوبہ دستاویزات موصول ہونے کے بعد 20 دن میں فیصلہ کرنا لازم ہوگا جبکہ موٹر انشورنس کلیم پر سروے رپورٹ موصول ہونے کے بعد 5 دن جبکہ دیگر نان لائف انشورنس کلیمز پر سروے کے بعد 7 دن میں فیصلہ کرنا ہوگا۔

کلیم منظور ہونے کے بعد انشورنس کمپنی کو 7 دن کے اندر ادائیگی کرنا ہوگی جبکہ ہیلتھ انشورنس کے تحت اسپتال میں داخل مریض کا کلیم 20 دن میں نمٹانا ہوگا، جبکہ اسپتال سے ڈسچارج کی منظوری کمپنی کو 3 گھنٹے کے اندر دینا ہوگی۔

مجوزہ رولز میں یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ انشورنس کمپنی کی تاخیر کی وجہ سے مریض کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے سے نہیں روکا جاسکے گا۔

کمپنیوں کو کلیم کے لیے صرف متعلقہ اور ضروری دستاویزات طلب کرنے کی اجازت ہوگی۔

ایس ای سی پی کے مطابق انشورنس کمپنیوں کو کلیم سیٹلمنٹ، مسترد شدہ اور زیر التوا کلیمز سے متعلق ڈیٹا بھی جاری کرنا ہوگا، جبکہ ایک سال سے زائد عرصے سے زیر التوا کلیمز کا تناسب بھی ظاہر کرنا ہوگا۔ یہ معلومات کمپنیوں کی ویب سائٹس پر دستیاب ہوں گی۔

مجوزہ قواعد کے تحت نئی انشورنس پالیسی کی درخواست 7 دن میں نمٹانا ہوگی۔ لائف انشورنس پالیسی کے دستاویزات زیادہ سے زیادہ 20 دن میں جاری کرنا ہوں گے، جبکہ ڈیجیٹل ذرائع سے فروخت کی گئی پالیسی 3 دن کے اندر جاری کرنا لازم ہوگا۔

موٹر انشورنس میں کمپنی کو پالیسی ہولڈر کو گاڑی کی موجودہ مارکیٹ ویلیو سے آگاہ کرنا ہوگا اور اوور انشورنس یا انڈر انشورنس کے اثرات بھی واضح کرنا ہوں گے جبکہ منظور شدہ موٹر انشورنس مرمت کا کام عمومی طور پر 15 دن میں مکمل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

مجوزہ رولز کے تحت نان لائف انشورنس پالیسی ہولڈر کو بغیر وجہ بتائے پالیسی منسوخ کرنے کا حق بھی حاصل ہوگا۔

ایس ای سی پی کے مطابق مجوزہ قواعد کی خلاف ورزی پر انشورنس کمپنی پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جاسکے گا، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں روزانہ مزید 10 ہزار روپے تک جرمانہ بھی عائد کیا جاسکے گا۔

ایس ای سی پی نے مجوزہ مارکیٹ کنڈکٹ رولز 2026 پر عوام اور متعلقہ فریقین سے 30 دن کے اندر تجاویز اور اعتراضات طلب کرلیے ہیں۔ عوامی مشاورت مکمل ہونے کے بعد مجوزہ رولز منظوری کے لیے پالیسی بورڈ کے سامنے پیش کیے جائیں گے

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں