کراچی : پاکستان میں بوتل سے دودھ پلانے کا رحجان تیزی سے بڑھ رہا ہے تاہم بریسٹ فیڈنگ کی کمی سے سالانہ 33 ہزار سے زائد بچوں کی اموات کا انکشاف سامنے آیا۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان میں ہر پانچ میں سے صرف ایک نومولود کو پیدائش کے پہلے گھنٹے میں ماں کا دودھ مل پاتا ہے، جبکہ ملک میں فارمولا اور بوتل سے دودھ پلانے کے رجحان میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔
کراچی پریس کلب میں منعقدہ میڈیا ورکشاپ کے دوران سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ نیونیٹولوجی کے ماہرین نے اہم انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً 33 ہزار 700 بچوں کی اموات کا براہِ راست تعلق ناکافی بریسٹ فیڈنگ سے ہوتا ہے۔ ان اموات میں اسہال اور نمونیا جیسے قابلِ علاج امراض شامل ہیں۔
ماہرینِ صحت کا کہنا تھا کہ ملک میں چھ ماہ سے کم عمر کے صرف 48 فیصد بچوں کو مکمل طور پر ماں کا دودھ میسر آتا ہے، جبکہ ماں کے دودھ سے محروم بچوں میں مختلف بیماریوں کے باعث موت کا خطرہ 15 گنا تک بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ پیدائش کے پہلے گھنٹے کے اندر بچے کو ماں کا دودھ پلانا اور ابتدائی چھ ماہ تک صرف ماں کے دودھ پر انحصار کرنا بے حد ضروری ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ بریسٹ فیڈنگ صرف ایک ماں کی ذمہ داری نہیں بلکہ والد، خاندان، معالجین، اسپتال اور آجر سمیت پورے معاشرے کو ماں کو موافق ماحول فراہم کرنا ہوگا، کیونکہ ماں کے ساتھ یہ تعاون ہی ایک صحت مند نسل کی ضامن ہے۔



