دنیا میں نور جہاں نام کی دو عورتوں نے بہت شہرت حاصل کی ہے۔ ایک تو ملکۂ ہندوستان نور جہاں، جو بادشاہ جہانگیر کی بیگم تھیں اور دوسری ملکۂ ترنم نور جہاں، جو اپنی اداکاری اور آواز کی جادوگری کے لیے مشہور تھیں۔
ملکۂ ترنم نور جہاں کا پیدائشی نام اللہ وسائی تھا اور سیٹھ دل سکھ کرنانی نے ان کو نور جہاں کا نام دیا تھا۔ نور جہاں بچپن میں ہی استاد فضل حسین کی شاگرد ہو گئی تھیں۔ استاد بہت بوڑھے ہو گئے تھے، لہٰذا انہوں نے اپنے ایک ہونہار شاگرد استاد غلام حیدر سے کہا کہ اب تم اللہ وسائی اور عیدن، دونوں بہنوں کو موسیقی کی تعلیم دو گے۔ اس طرح نواب بیگم، عیدن بیگم اور اللہ وسائی پر مشتمل تھیٹر چند دنوں میں ہی پنجاب میل کے نام سے مشہور ہو گیا۔ تھیٹر کے مالک سیٹھ دل سکھ کرنانی نے ایک دن کہا کہ آپ سب لوگ آج سے اللہ وسائی کو نور جہاں کہا کریں گے۔ سیٹھ نے نور جہاں کا ہاتھ دیکھ کر یہ بھی کہا کہ اس کی شہرت ایک دن ساتویں آسمان تک پہنچے گی۔
۱۹۴۲ء میں نور جہاں کی ایک ایسی فلم کی نمائش ہوئی جس نے بے بی نور جہاں کو بحیثیت ہیروئن فلم نگری میں متعارف کرایا۔ پنچولی پیکچرس کے بینر تلے بنی اس فلم کا نام تھا، “خاندان۔” جس کے ہدایت کار شوکت حسین رضوی تھے۔ اس فلم کی موسیقی غلام حیدر نے ترتیب دی تھی اور نور جہاں کے مقابل غلام محمد نے ہیرو کا مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ منورما، اجمل، بے بی اختر اور ابراہیم وغیرہ اس فلم خاندان کے دیگر اہم کردار تھے۔ اس فلم کی نمائش کے وقت نور جہاں کی عمر صرف ۱۳ برس کی تھی۔ فلم خاندان کے بعد اگلے ہی برس ۱۹۴۳ء میں نور جہاں کی فلم “نوکر” آئی جس میں چندر موہن، شوبھنا سمرتھ، یعقوب وغیرہ دیگر اداکار تھے۔ دوسری فلم “دہائی” تھی جس میں شانتا آپٹے، کمار، انصاری اور مرزا مشرف تھے۔ تیسری فلم “نادان” تھی جس میں مسعود، مایا دیوی، جلو بائی، مراد، نذیر اور جانی بابو تھے۔ ۱۹۴۴ء میں فلم “دوست” اور ” لال حویلی، دو فلمیں منظر عام پر آئیں، جن کے ہدایت کار شوکت حسین رضوی اور کے۔ بی۔ لال تھے۔ ان فلموں میں موتی لعل اور سریندر جیسے منجھے ہوئے اداکاروں نے ہیرو کے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔
۱۹۴۵ء میں نور جہاں کی زندگی میں ایک نیا دور آیا۔ اس سال ان کی چار فلمیں ریلیز ہوئیں۔ بڑی ماں، بھائی جان، ولیج گرل اور زینت۔ فلم بڑی ماں میں نور جہاں کے ساتھ لتا منگیشکر نے بھی بے بی لتا کے نام سے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ فلم زینت کے لیے نور جہاں نے موسیقار میر صاحب حفیظ خان اور رفیق غزنوی کی ترتیب شدہ دھن پر پہلا فلمی نغمہ صدا بند کرایا تھا جس کے بول تھے، “بلبلو مت رو یہاں، آنسو بہانا ہے منع۔” اسی فلم سے نور جہاں نے ہندی فلموں کی اوّلین قوالی کو بھی اپنی آواز بخشی جس کے بول تھے، “آہیں نہ بھریں، شکوے نہ کیے، کچھ بھی نہ زباں سے کام لیا۔”
شوکت حسین رضوی کی ہدایت میں بنی فلم ” زینت” نے اپنے نغموں کی مقبولیت کے سبب کام یابی کے نئے ریکارڈ قائم کیے اور نور جہاں کو بطور ایک کام یاب اداکارہ اور گلوکارہ عوام میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ فلم زینت کے ساتھ ہی ہدایت کار امرناتھ اور موسیقار شیام سندر کی فلم ولیج گرل بھی نور جہاں کے لافانی نغموں کی وجہ سے مقبولیت حاصل کر سکی۔ ۱۹۴۵ء میں نمائش ہوئی ان چار فلموں کے بعد نور جہاں ہندوستانی فلموں کی سب سے زیادہ کام یاب اداکارہ، گلوکارہ کہلانے لگیں اور نور جہاں کی آواز نے ملک کے گوشے گوشے میں دھوم مچا دی تھی۔
۱۹۴۶ء میں عظیم ہدایت کار محبوب خان اور موسیقارِ اعظم نوشاد کے ساتھ نور جہاں کو فلم انمول گھڑی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ محبوب خان نے اس فلم کے ذریعے اپنے زمانے کے تین مقبول ترین اداکاروں کو ایک ساتھ پیش کیا تھا جو نامور گلوکار بھی تھے۔ نور جہاں، سریندر اور ثریّا۔ تکونی محبت کی کہانی پر مبنی اس فلم کے لاجواب نغموں کی مقبولیت کے سبب فلم انمول گھڑی اپنے وقت کی سب سے بڑی ہٹ فلم ثابت ہوئی۔ اس فلم کے نغموں کی ریکارڈ توڑ فروخت نے نور جہاں کو ملکۂ ترنم اور نو شاد کو موسیقارِ اعظم بنا دیا۔ جواں ہے محبت حسیں ہے زمانہ، میرے بچپن کے ساتھی مجھے بھول نہ جانا، آجا میری برباد محبت کے سہارے، آواز دے کہاں ہے، دنیا مری جواں ہے، جیسے نور جہاں کے گائے ہوئے یہ نغمے آج سات دہائیوں کے بعد بھی اپنی تازگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
۱۹۴۷ء میں نور جہاں کی آخری دو فلمیں منظرِ عام پر آئیں، جن میں کام کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے اپنے فن کا لوہا منوا لیا اور اس کے بعد ملکۂ ترنم اپنے لاکھوں مداحوں اور پرستاروں کو چھوڑ کر پاکستان ہجرت کر گئیں۔ محمد رفیع اور نور جہاں کا گایا دو گانا یہاں بدلہ وفا کا بے وفائی کے سوا کیا ہے… نور جہاں کے مقبول ترین گانوں میں سے ایک ہے۔



