کراچی سے پاکستان تک اختیارات کی منتقلی، جواب دہی اور مقامی جمہوریت کا مقدمہ

0
1

کراچی محض بحرانوں میں گھرا ہوا ایک شہر نہیں، بلکہ یہ ایسے طرزِ حکمرانی کے نتائج سے خبردار کرتا ہے جو حد سے زیادہ مرکزیت، سیاسی مداخلت اور شہریوں سے دوری کا شکار ہوچکا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور معاشی مرکز کو بہتر شہری نظم و نسق کی مثال ہونا چاہیے تھا، لیکن اس کے برعکس یہ ملک میں حکمرانی کے وسیع تر بحران کی سب سے نمایاں تصویر بن چکا ہے۔

مسئلہ صرف خستہ حال سڑکوں، ٹریفک کے دباؤ، بوسیدہ ہوتے بنیادی ڈھانچے، کچرے کے ناقص انتظام، ناقابلِ بھروسا بلدیاتی سہولیات یا بے ہنگم شہری پھیلاؤ تک محدود نہیں۔ ان تمام ظاہری ناکامیوں کے پیچھے ایک زیادہ گہرا ادارہ جاتی سوال موجود ہے کہ شہر پر حکومت کون کرتا ہے، اس کے وسائل کس کے اختیار میں ہیں، فیصلے کون کرتا ہے اور فیصلہ کرنے والے بالآخر کس کے سامنے جواب دہ ہیں؟

سندھ میں برسوں سے ایک ہی سیاسی تسلسل قائم رہنے کے باوجود کراچی آج بھی اختیارات کی تقسیم، اداروں کے باہمی ٹکراؤ، کمزور بلدیاتی نظام اور سیاسی طاقت و انتظامی ذمہ داری کے درمیان غیر مؤثر تعلق کا شکار ہے۔ صوبائی محکموں، بلدیاتی اداروں، کنٹونمنٹ بورڈز، ترقیاتی اداروں اور دیگر ایجنسیوں کے درمیان ذمہ داریاں بٹی ہوئی ہیں، مگر حقیقی جواب دہی کا تعین کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم یہ صرف کراچی کا مسئلہ نہیں۔ کراچی اس بحران کی سب سے اہم مثال ضرور ہے، مگر اصل موضوع پورا پاکستان ہے۔

بہتر طرزِ حکمرانی کی بنیاد چند بنیادی اصولوں پر ہوتی ہے۔ فیصلوں میں شفافیت، مالی دیانت، ادارہ جاتی جواب دہی، شہریوں کی شرکت، انتظامی صلاحیت، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود پالیسیوں کا تسلسل۔ ان پیمانوں پر دیکھا جائے تو پاکستان کا موجودہ حکومتی ڈھانچا شدید کمزوریوں کا شکار ہے۔شہریوں کو اکثر ان فیصلوں پر کوئی مؤثر اختیار حاصل نہیں ہوتا جو ان کی روزمرہ زندگی کو براہِ راست متاثر کرتے ہیں۔ دوسری جانب مقامی اداروں کے پاس ان ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے نہ مناسب مالی خود مختاری ہے، نہ انتظامی اختیار اور نہ ہی ادارہ جاتی تسلسل۔ اس صورتِ حال نے ایک بنیادی عدم توازن پیدا کردیا ہے۔ مالی وسائل وفاق سے صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، لیکن مؤثر اختیار اور جوب دہی بدستور بالائی سطح پر مرتکز ہیں۔

پاکستان مالی وسائل کی صوبوں کو منتقلی کے سلسلے میں پہلے ہی خاصی پیش رفت کرچکا ہے۔ ساتویں قومی مالیاتی کمیشن، یعنی این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو قابلِ تقسیم محاصل کا 57.5 فیصد حصہ ملتا ہے، جب کہ وفاقی بجٹ سے ہر سال کئی ہزار ارب روپے صوبوں کو منتقل کیے جاتے ہیں۔ اس لیے مسئلے کو محض یہ کہہ کر بیان نہیں کیا جاسکتا کہ صوبائی حکومتوں کے پاس وسائل کی کمی ہے۔ اصل اور زیادہ مشکل سوال یہ ہے کہ صوبوں تک پہنچنے کے بعد یہ رقم کہاں اور کیسے خرچ ہوتی ہے؟

اگر اسلام آباد سے بڑے مالی وسائل صوبائی دارالحکومتوں تک منتقل ہوجائیں، لیکن اختیارات، اخراجات اور فیصلہ سازی کو بااختیار مقامی اداروں تک نہ پہنچایا جائے تو پاکستان وفاقی مرکزیت کی جگہ صرف صوبائی مرکزیت قائم کر رہا ہوگا۔ انتظامی اور سیاسی اختیارات کی منتقلی کے بغیر مالی وسائل کی منتقلی نامکمل رہتی ہے۔ محض رقم فراہم کر دینا بہتر حکمرانی کی ضمانت نہیں بن سکتا، خصوصاً جب اس کے ساتھ مؤثر جواب دہی نہ ہو۔ پاکستان کی سیاسی بحث میں وسائل اور ان کے نتائج کے درمیان اس فرق پر کہیں زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کئی دہائیوں کے اخراجات، ترقیاتی پروگراموں اور اداروں میں توسیع کے باوجود ملک تعلیم، صحتِ عامہ، پینے کے صاف پانی، صفائی، نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔

پاکستان اب بھی دنیا میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی سب سے بڑی آبادی رکھنے والے ممالک میں شامل ہے، جب کہ صاف پانی، مناسب غذائیت اور بنیادی صحت کی سہولتوں کی کمی وسیع پیمانے پر موجود ہے۔ یہ محض غربت کے اعداد و شمار نہیں، بلکہ اس بات کے بھی اشاریے ہیں کہ ریاست اپنے وسائل کو مؤثر عوامی خدمات میں تبدیل کرنے کی محدود صلاحیت رکھتی ہے۔ ان ناکامیوں پر بحث کو صرف اس سوال تک محدود نہیں رہنا چاہیے کہ کون سی سیاسی جماعت یا حکومت ذمہ دار ہے۔ اس سے زیادہ بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا پاکستان کا موجودہ حکومتی اور عوامی خدمات کی فراہمی کا ڈھانچا ہی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے قابل ہے؟

مسئلہ اسکولوں کا ہو یا پانی کی فراہمی، صفائی، کچرا اٹھانے، عوامی نقل و حمل، مقامی سڑکوں، محلوں کے بنیادی ڈھانچے یا ابتدائی طبی سہولتوں کا، ان تمام خدمات سے شہری مقامی سطح پر ہی مستفید ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود ان مسائل کے سب سے قریب موجود اداروں کے پاس انہیں حل کرنے کے لیے سب سے کم اختیار ہوتا ہے۔ یہی تضاد پاکستان میں حکمرانی کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان کو اس تصور پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی کہ مؤثر حکمرانی کے لیے تمام سیاسی اور انتظامی اختیارات کا صوبائی سطح پر مرتکز ہونا ضروری ہے۔ بڑے، پیچیدہ اور متنوع معاشرے اس وقت زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتے ہیں جب مختلف سطحوں کے اداروں کو ان کی ذمہ داریوں اور دائرہ کار کے مطابق اختیارات دیے جائیں۔

وفاقی حکومت کو حقیقی قومی نوعیت کی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے، صوبائی حکومتوں کو ایسے امور سنبھالنے چاہییں جن کے لیے پورے صوبے کی سطح پر رابطہ ضروری ہو، جب کہ شہری اور ضلعی حکومتوں کو ان معاملات پر حقیقی اختیار حاصل ہونا چاہیے جو بنیادی طور پر مقامی نوعیت کے ہیں۔ یہ صرف انتظامی سہولت کا معاملہ نہیں، بلکہ جمہوری جواب دہی کا سوال بھی ہے۔ ہر شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے گھر کے باہر سڑک، محلے میں پانی کی فراہمی، صفائی، زمین کے استعمال، پارکوں، ٹرانسپورٹ، بلدیاتی ضابطوں اور مقامی ترقی کی ذمہ داری کس ادارے پر عائد ہوتی ہے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ متعلقہ ادارے کے پاس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے ضروری اختیارات اور وسائل دونوں موجود ہوں۔ اس وقت ذمہ داری اور اختیار کے درمیان یہ سلسلہ اکثر ٹوٹا ہوا نظر آتا ہے۔

پاکستان کا آئین پہلے ہی اس اصول کو تسلیم کرتا ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140- اے ہر صوبے کو پابند کرتا ہے کہ وہ مقامی حکومت کا نظام قائم کرے اور سیاسی، انتظامی اور مالی ذمہ داریاں اور اختیارات مقامی حکومتوں کے منتخب نمائندوں کو منتقل کرے۔ یوں آئینی اصول موجود ہے، اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اسے عملی اور ادارہ جاتی شکل دینے کے لیے تیار ہے؟

مقامی حکومتوں کو عوامی خدمات کی فراہمی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اگر وہ سیاسی طور پر ماتحت، مالی طور پر محتاج اور انتظامی طور پر محدود رہیں۔ ایک حقیقی بلدیاتی نظام کے لیے ایسے منتخب نمائندوں کی ضرورت ہے جن کی ذمہ داریاں واضح ہوں، مالی وسائل باقاعدگی اور تسلسل سے دستیاب ہوں، بلدیاتی امور پر حقیقی اختیار حاصل ہو اور مقامی انتظامیہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرے۔

اس کے ساتھ سرکاری خریداری میں شفافیت، آزادانہ جانچ کے قابل مالی حسابات، عوامی خدمات کے قابلِ پیمائش اہداف اور منصوبہ بندی و بجٹ سازی میں شہریوں کی مؤثر شرکت بھی ضروری ہے۔ ان انتظامات کے بغیر اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ایک نعرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی۔ اسی اصول کو صوبائی سطح پر بھی زیرِ غور لانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے موجودہ صوبوں کو ملک کی بڑی آبادی، جغرافیائی تنوع اور پیچیدہ شہری مسائل کے لیے لازماً بہترین انتظامی اکائیاں تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ تاہم اس بحث کو نسلی سیاست، علاقائی خدشات اور جماعتی مفادات سے الگ رکھنا ہوگا۔

اصل سوال انتظامی نوعیت کے ہونے چاہییں کہ کیا موجودہ صوبائی اکائیاں مؤثر انداز میں چلائی جاسکتی ہیں؟ کیا حکومتیں بہت بڑی آبادی اور وسیع علاقوں میں رہنے والے شہریوں کی ضروریات کا مناسب جواب دے سکتی ہیں؟ کیا فیصلہ ساز شہریوں کی دسترس میں ہیں؟ اور کیا موجودہ نظام منصفانہ ترقی کو فروغ دیتا ہے؟ اس وسیع تر بحث میں ایک تجویز یہ بھی ہے کہ موجودہ ڈویژنوں سمیت چھوٹی انتظامی اکائیوں کی بنیاد پر حکومتی نظام منظم کیا جائے۔ ایسے خیالات کو فوراً مسترد کرنے کے بجائے سنجیدگی سے زیرِ غور لانا اور ان پر کھلی بحث کرنا ضروری ہے۔ ان تجاویز کی اصل اہمیت اکائیوں کی کسی مخصوص تعداد میں نہیں، بلکہ اس ادارہ جاتی سوال میں ہے کہ کیا سیاسی اختیار صرف اس لیے چند صوبائی دارالحکومتوں تک محدود رہنا چاہیے کہ پاکستان کو یہی انتظامی ڈھانچا ورثے میں ملا تھا؟

انتظامی ڈھانچے حکمرانی کو بہتر بنانے کے ذرائع ہوتے ہیں، کوئی مقدس اور ناقابلِ تغیر منزل نہیں۔ جہاں موجودہ اکائیاں آبادی یا رقبے کے لحاظ سے بہت بڑی، شہریوں سے دور یا انتظامی طور پر ناقابلِ عمل ہوں، وہاں آبادی، معاشی استحکام، انتظامی صلاحیت، جغرافیہ، رسائی، ترقیاتی ضروریات اور جمہوری رضامندی کو سامنے رکھتے ہوئے نئے صوبوں یا دیگر آئینی طور پر ممکن انتظامات پر غور کیا جانا چاہیے۔ اس کا مقصد صرف ملک کو مزید اکائیوں میں تقسیم کرنا نہیں، بلکہ حکمرانی کو قابلِ عمل اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔ تاہم حقیقی معنوں میں اختیارات کی منتقلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شاید آئینی یا انتظامی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی پہلے سے قائم طاقت کے مراکز کے لیے خطرہ بن جاتی ہے۔صوبائی سیاسی قیادت کے پاس سرکاری تقرریوں، ترقیاتی فنڈز، انتظامی صوابدید اور سیاسی سرپرستی پر اپنا کنٹرول رضاکارانہ طور پر خودمختار مقامی اداروں کے حوالے کرنے کی کوئی فطری ترغیب نہیں ہوتی۔

سیاسی خاندان، جماعتیں اور مضبوط مفاداتی نیٹ ورک اس وقت فائدے میں رہتے ہیں جب عوامی اختیار چند ہاتھوں میں مرتکز ہو اور شہری اپنے مسائل کے حل کے لیے انہی طاقت ور حلقوں تک رسائی کے محتاج رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاحات کسی شخصیت کے گرد نہیں بلکہ مضبوط اداروں کی بنیاد پر ہونی چاہییں۔

پاکستان کو کسی نئے سیاسی نجات دہندہ کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسا حکومتی نظام درکار ہے جس میں کوئی فرد، خاندان، سیاسی جماعت، سرکاری بیورو کریسی یا ادارہ جاتی گروہ عوامی اختیار پر آسانی سے اجارہ داری قائم نہ کرسکے۔ مقصد ایک اجارہ داری کو دوسری اجارہ داری سے تبدیل کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اختیارات کو مختلف سطحوں پر تقسیم کرکے، ذمہ داریوں کو واضح بنا کر، عوامی رقم کے استعمال کی تفصیلات سامنے لاکر، اداروں کی کارکردگی ناپ کر اور منتخب نمائندوں کو واضح ذمہ داریوں اور قابلِ پیمائش نتائج کے لیے جواب دہ بنا کر اجارہ داری قائم کرنا ہی مشکل بنا دینا چاہیے۔

اس حوالے سے کراچی پاکستان کو ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک حقیقی طور پر بااختیار میٹروپولیٹن حکومت، جس کی ذمہ داریاں واضح ہوں، مالی وسائل باقاعدگی سے دستیاب ہوں، انتظامیہ پیشہ ورانہ بنیادوں پر کام کرے، سرکاری خریداری شفاف ہو، ٹرانسپورٹ اور شہری منصوبہ بندی مربوط ہو، پولیس کا نظام مقامی سطح پر جواب دہ ہو اور شہریوں کی مؤثر نگرانی موجود ہو، پورے ملک کے بڑے شہروں کے لیے شہری حکمرانی کا نمونہ بن سکتی ہے۔ بعدازاں انہی اصولوں کو لاہور، فیصل آباد، راولپنڈی، پشاور، کوئٹہ، ملتان، حیدرآباد اور دیگر بڑے شہری مراکز کی ضروریات کے مطابق اختیار کیا جاسکتا ہے۔

لہٰذا یہ معاملہ کراچی بمقابلہ سندھ یا صوبے بمقابلہ وفاق کا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان ایک ایسے فرسودہ نظام کے مقابلے میں مؤثر اور جواب دہ حکمرانی کا انتخاب کرتا ہے جس میں اختیار نقصان دہ حد تک چند ہاتھوں میں مرتکز ہے، جب کہ ذمہ داری کا تعین مبہم رہتا ہے۔ اس کا حل مرکزیت کی ایک اور تہ قائم کرنا نہیں، بلکہ بہتر انداز میں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی ہے۔ پاکستان میں حکمرانی کی بحث طویل عرصے سے شخصیات، سیاسی جماعتوں، انتخابات اور آئینی محاذ آرائی کے گرد گھومتی رہی ہے، جب کہ اس بنیادی ادارہ جاتی سوال کو نظرانداز کیا گیا ہے کہ حکومت کو عام شہری کے لیے مؤثر کیسے بنایا جائے۔

جمہوریت کو ہر چند سال بعد ووٹ ڈالنے تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ جمہوریت کا عملی تجربہ روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے، فعال اسکولوں اور اسپتالوں، قابلِ اعتماد عوامی نقل و حمل، صاف سڑکوں، محفوظ پانی، بہتر حالت میں موجود شاہراہوں، زمین کے منظم استعمال، فعال پارکوں اور فوری ردعمل دینے والی بلدیاتی خدمات کی صورت میں۔ کسی شہری کو ایسی سہولت حاصل کرنے کے لیے سیاسی تعلقات کی ضرورت نہیں پڑنی چاہیے جو پہلے ہی اسے حق کے طور پر حاصل ہے۔

ریاست کی کام یابی کا اصل پیمانہ اس کے اداروں کی شان و شوکت، بجٹ کا حجم یا حکومتوں کی پْرجوش تقاریر نہیں، بلکہ عوام کو فراہم کی جانے والی خدمات کا معیار اور شہریوں کے ساتھ روا رکھا جانے والا منصفانہ سلوک ہے۔ پاکستان میں آئین، سیاست دانوں، بیوروکریٹس، کمیٹیوں یا ترقیاتی منصوبوں کی کمی نہیں۔ مالی وسائل کی منتقلی کے حجم کو دیکھتے ہوئے حکمرانی کی ہر ناکامی کو صرف فنڈز کی کمی سے بھی منسوب نہیں کیا جاسکتا۔ اصل کمی ادارہ جاتی جواب دہی، اختیارات کی مناسب تقسیم اور مؤثر طرزِ حکمرانی کی ہے۔

کراچی اس مسئلے کے نتائج کو غیر معمولی وضاحت کے ساتھ سامنے لاتا ہے، لیکن یہ بحران سندھ اور پورے پاکستان میں موجود ہے۔ ملک کو ریاست کے موجودہ ڈھانچے پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے، حقیقی طور پر بااختیار مقامی حکومتیں، مالی اور انتظامی اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی، ضرورت کے مطابق زیادہ فعال انتظامی اکائیاں، شفاف سرکاری مالیات، پیشہ ورانہ مقامی انتظامیہ، شہریوں کی شرکت اور عوامی خدمات کے قابلِ پیمائش اہداف۔ اس کا مقصد صوبوں یا وفاق کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ ان کے ماتحت ہر سطح پر حکومت کو زیادہ مؤثر بناکر دونوں کو مضبوط کرنا ہے۔ مرکوز اختیار کے گرد قائم سیاسی اور خاندانی اجارہ داریوں کو ایک اور سیاسی اجارہ داری کھڑی کرکے مستقل طور پر شکست نہیں دی جاسکتی۔ انہیں بہتر ادارہ جاتی ڈھانچے کے ذریعے کمزور کرنا ہوگا۔ اصول بالکل واضح ہے: اختیار کو شہری کے اتنا قریب ہونا چاہیے جتنا اس اختیار کا مؤثر استعمال ممکن بناتا ہے، اور جہاں بھی اختیار استعمال ہو وہاں جواب دہی بھی لازماً موجود ہونی چاہیے۔ پاکستان کو محض حکومت کے نام پر مزید حکومتی ڈھانچوں کی ضرورت نہیں۔ اسے ایسی حکومت درکار ہے جو حقیقی معنوں میں کام کرے—اور اس سفر کا آغاز اختیار، وسائل اور جواب دہی کو عوام کے قریب لانے سے ہوگا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں