کراچی : میر رضا کے والد نے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ میر رضا کیس کیلیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔

0
3

مقتول میر رضا کے والد میر حسین علی نے سندھ حکومت کی جانب سے میر رضا کیس کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کے اعلان پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دینے کا مطالبہ کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے پروگرام الیونتھ آور میں خصوصی گفتگو کرتے ہوئے میر حسین علی نے کہا کہ وہ جوڈیشل کمیشن کے بجائے جے آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں اور حکومت کو اس حوالے سے ان کی درخواست پر اقدام کرنا چاہیے۔

میر حسین علی کا کہنا تھا کہ ہمیں بتائیں قاتل کون ہے؟ اور جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی جارہی؟ میئر کراچی کہتے ہیں کہ ہم فیملی کے ساتھ ہیں لیکن ایسا بالکل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب بتائیں کہ جے آئی ٹی کیوں نہیں بنائی جارہی ؟ اس کے قیام میں رکاوٹ کیوں پیدا کی جارہی ہے؟

میر حسین نے کہا کہ ہم نے آپ پر بھروسہ کیا، اب آپ ہم پربھروسہ کرکے جے آئی ٹی بنائیں، اس سے پہلے بھی قبر کشائی میں رکاوٹ ڈالی گئی تھی اور راتوں رات پینل تبدیل کیا گیا، ہم جے آئی ٹی کا مطالبہ کررہے ہیں اور ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جارہا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن بنانے کے اعلان سے قبل ان سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہمیں اعتماد میں لیا گیا، ٹی وی دیکھ کر معلوم ہوا کہ جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں میر حسین علی کا کہنا تھا کہ ان کے خاندان نے پہلے بھی تحقیقاتی ٹیموں پر اعتماد کیا، تاہم اب وہ جے آئی ٹی کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر عدالت کے جج کو تحقیقاتی عمل کی نگرانی کے لیے مقرر کیا جاتا ہے تو یہ اپنی جگہ درست اقدام ہوسکتا ہے، تاہم ان کا مطالبہ جے آئی ٹی تشکیل دینے کا ہے۔

مقتول کے والد نے کہا کہ ہم ایک چیز مانگ رہے ہیں کہ جے آئی ٹی بنا دی جائے، اس میں حکومت کو کیا اعتراض ہے؟ ان کے مطابق قانون میں جے آئی ٹی بنانے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ خاندان نے میر رضا کی تدفین سمیت تمام مراحل سے گزرنے کے بعد بھی تحقیقات کے لیے تعاون کیا، اب ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت ان کی درخواست پر بھی اعتماد کرے۔

میر حسین علی نے سوال اٹھایا کہ اگر جوڈیشل کمیشن میں بھی وہی تحقیقاتی ٹیمیں کام کریں گی تو پھر جے آئی ٹی بنانے کے مطالبے کو کیوں قبول نہیں کیا جا رہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ان سے رابطہ کرے اور ان کے تحفظات سنے۔ ان کے بقول خاندان کی خواہش ہے کہ تحقیقات ایسے طریقہ کار کے تحت ہوں جس پر وہ اعتماد کرسکیں۔

میر حسین علی نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے ان سے براہِ راست رابطہ نہیں کیا گیا اور انہیں کمیشن کے قیام کا علم میڈیا کے ذریعے ہوا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں