سانحۂ کار ساز: آنکھوں دیکھا حال اور ایک سوال!

0
1

18 اکتوبر 2007ء کی ایک نسبتاً خنک رات کو میں شارع فیصل پر واقع شہید ملّت فلائی اوور پر کیمرے کے سامنے کھڑا تھا۔ میرے چہرے سے دن بھر کی تھکن نمایاں تھی جب کہ اسٹوڈیو سے مجھے مسلسل ہدایات موصول ہورہی تھیں۔ بے نظیر بھٹو کے قافلے نے کار ساز فلائی اوور عبور کر لیا تھا۔

میں دن میں دو ٹیلی فونک انٹرویز جس کو الیکٹرانک میڈیا میں بیپر کہتے ہیں، دے چکا تھا۔ پروڈیوسر نے مجھے کہا کہ راجہ بھائی تیار ہوجائیں، چند منٹوں میں ٹرانسمیشن آپ کو سونپ رہے ہیں۔

ایک پرچے پر میں نے دن بھر کے چیدہ چیدہ واقعات، اور وہ خاص سرگرمیاں جو شارع فیصل پر محترمہ کے استقبال سے متعلق تھیں، ان کو اپنے انداز میں لکھ رکھا تھا۔ اس میں کراچی کی اہم ترین سڑک پر موجود پیپلز پارٹی کے جیالوں اور راہ نماؤں کی اپنی لیڈر کی آمد پر خوشی اور جوش و خروش، محترمہ اور پارٹی کے حق میں نعروں کے ساتھ، پارٹی ترانوں پر جھومنا، رقص کرنا اور پارٹی کی جانب سے کارکنوں کے کھانے پینے کے انتظامات کی تفصیل شامل تھی۔ اس کے علاوہ سیکیورٹی کے انتظامات کی تفصیل بھی درج تھی۔ شارع فیصل پر ہر طرف بھاری نفری نظر آرہی تھی۔ پولیس اور قانون فافذ کرنے والے دیگر اداروں کے افسران اور اہلکار ڈیوٹی پر مامور تھے۔ مگر معلوم نہیں تھا کہ میری جمع کردہ یہ معلومات اور ملک کی سیاسی تاریخ کے ایک یادگار دن کی یہ تمام تفصیلات لمحوں میں بے معنی ہونے والی ہیں۔ میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میرے ہاتھ میں موجود یہ پرچہ چند سیکنڈوں بعد ہی کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ جائے گا اور کسی کام کا نہیں رہے گا۔

پھر، اسٹوڈیو سے اسٹینڈ بائی کہا گیا اور کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہوا۔ اس قبل کہ کاؤنٹ ڈاون مکمل ہوتا ایک زور دار دھماکہ سنائی دیا۔ اس کے بعد دوسرا دھماکہ ہوا۔ میری نظر اس جانب اٹھی جہاں سے بے نظیر کا قافلہ آرہا تھا، تو ایک بڑا سا دھوئیں کا بادل اٹھتا دکھائی دیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ چند سکینڈ میں اس کا اثر میں نے شہیدِ ملّت فلائی اوور پر محسوس کیا۔ میں مائیک چھوڑ کر پولیس موبائل کے پاس پہنچا تاکہ معلومات حاصل کروں مگر انہوں نے کہا کہ یہ کسی بارودی مواد کا دھماکہ نہیں ہے، وہاں آتش بازی کی جارہی ہے۔ ہم نے دیکھا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ناکے ہٹائے اور سیکیورٹی ختم کر دی۔

میرے ساتھ ایک خاتوں کیمرہ پرسن تھیں۔ میں انہیں لے کر جائے وقوعہ پر پہنچا۔ وہاں کا منظر دیکھ کر میرے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ جہاں ابھی خوشی کے ترانے گونج رہے تھے، اور شادیانے بجائے جارہے تھے، اب وہاں چیخ پکار اور انسانوں کی آہ و بکا تھی۔ اسی شور میں ایمبولینس کے سائرن سنائی دینے لگے۔ سڑک پر ہر طرف لاشیں ہی لاشیں اور فضا میں خون اور انسانی چربی جلنے اور بارود کی بُو پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے مختلف جگہوں پر انسانی جسم کے اعضا پھیلے ہوئے دیکھے۔ آج بھی جب میں کارساز کے مقام سے گزرتا ہوں تو وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ یہ منظر میرے دل اور دماغ پر ایک بوجھ کی طرح ہے۔ بطور صحافی میں نے کئی کرائم سین دیکھے ہیں اور گینگ وار کے علاوہ دہشت گردی کے واقعات کی رپورٹنگ کی ہے۔ مگر ظاہر ہے میں‌ واقعہ رونما ہونے کے بعد وہاں پہنچتا تھا۔ مگر سانحۂ کار ساز میری نظروں کے سامنے رونما ہوا تھا، مگر میرے لیے یہ سال 2007ء کا پہلا سانحہ نہ تھا۔ اسی سال میرے والد کا انتقال ہوا تھا اور اس سے قبل میں 12 مئی کا قتلِ عام دیکھ چکا تھا۔ یہ سب واقعات میرے اعصاب پر بوجھ بنے رہے۔

18 اکتوبر 2007ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کے قافلے میں دھماکوں میں 180 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 500 سے زائد زخمی۔ جاں بحق افراد میں اکثریت پیپلز پارٹی کے کارکنان (جانثارانِ بے نظیر)، سیکیورٹی اہلکاروں کی تھی اور پھر وہ عام لوگ تھے جو ملکی سیاست کے ایک یادگار اور اہم دن کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے تھے اور شارع فیصل پر قافلے میں شامل ہوئے تھے۔

اس سانحے کے 20 جاں بحق افراد کی لاشیں ناقابلِ شناخت ٹھہریں۔ ان کا جسم دھماکے کی شدت سے اس قدر متاثر ہوا تھا کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے بھی شناخت ممکن نہ ہوسکی۔ انہیں ایدھی فاؤنڈیشن کے تعاون سے کراچی کے مواچھ گوٹھ قبرستان میں امانتاً سپردِ خاک کردیا گیا اور ان کی قبروں پر نام کی جگہ نمبر درج ہے۔

ملکی تاریخ کا یہ بدترین واقعہ صحافیوں کے لئے بھی ایک بڑی آزمائش تھا۔ سانحے کے فوری بعد ہمارے کئی ساتھی جو پورا دن اکٹھے رہے تھے، ان کی ڈھونڈ مچی۔ سب ایک دوسرے سے بچھڑ گئے تھے۔ بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کے قریب جو صحافی موجود تھے، وہ بھی زخمی ہوئے۔ ایک طرف سانحے کے بعد رپورٹنگ کرنا صحافیوں کی ذمہ داری تھا تو دوسری طرف بعض ساتھیوں کے بارے میں تشویش ناک اطلاعات موصول ہورہی تھیں۔ کئی رپورٹر، کیمرہ مین، فوٹو گرافر اور سپورٹنگ اسٹاف بم دھماکے میں زخمی ہوئے تھے۔

اسی سانحے نے ہم سے ہمارے ایک ساتھی محمد عارف کو بھی چھین لیا۔ وہ اے آر وائی سے بطور کیمرہ مین وابستہ تھا اور بے نظیر بھٹو کے کنٹینر کی قریب اپنی ذمہ داری نبھا رہا تھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ دھماکے سے چند لمحے قبل ہی مزید شارٹس بنانے کے لیے کنٹینر کے قریب گیا تھا۔ محمد عارف کی شہادت کی خبر ہوئی تو دل بیٹھ گیا۔ کیونکہ اکثر مختلف مواقع پر کوریج کے دوران اس سے ملاقات ہوتی رہتی تھی۔ اس کے ساتھ گپ شپ اور دوستانہ نوک جھونک جاری رہتی تھی۔ دل مان نہیں رہا تھا کہ عارف کو اب نہیں دیکھ سکوں گا، مگر حقیقیت سے مفر ممکن نہیں تھا۔

شاہد انجم بھی اس بم دھماکے میں شدید زخمی ہوئے تھے۔ صد شکر کہ ان کی جان بچ گئی۔ وہ اس واقعے کو یوں بیان کرتے ہیں، سانحہ کار ساز میں مجھے خاصی شدید چوٹیں آئیں تھیں۔ میں صبح ہی سے کراچی ایئرپورٹ پرموجود تھا۔ اور وہیں سے بی بی شہید کے قافلے کی کوریج کرتا آرہا تھا۔ بے نظیر بھٹو اور پیپلز پارٹی کے اہم راہ نما ان کے ساتھ کنٹینر پر موجود تھے۔ چونکہ میں طویل عرصے سے کرائم رپورٹنگ کررہا تھا۔ اس لئے پولیس افسران سے میری اچھی سلام دعا تھی۔ سیکیورٹی ڈیوٹی پر مامور ایک پولیس موبائل کی چھت پر بیٹھ گیا اور تبھی دھماکہ ہوا۔ میں اور میرے ساتھ موجود ایک پولیس افسر پہلے دھماکے میں زخمی ہوئے جب کہ موبائل کا باقی عملہ موت کے بے رحم شکنجے میں آگیا۔ یوں کہہ لیں کہ پہلا دھماکہ میں نے خود دیکھا۔ مجھے یاد ہے کہ پہلے ماچس کے شعلے کی طرح آگ نظر آئی اور پھر زور دار آواز کانوں‌ سے ٹکرائی۔ دھماکہ خیز مواد پولیس موبائل کے پچھلے ٹائر پر نصب تھا۔ میں ہوا میں اچھل گیا اور زمین پر جا گرا، ایک بال بیرنگ میرے جسم میں پیوست ہوا اور میرا سَر بری طرح زخمی ہوگیا۔ شاہد انجم مزید بتاتے ہیں کہ پہلے دھماکے کے ساتھ زمین پر گرنے کے بعد جیسے ہی وہ کھڑے ہوئے تو دوسرا دھماکہ ہوگیا۔ یہ زیادہ شدید دھماکہ تھا اور اس کے بعد تو جیسے ہر طرف قیامتِ صغریٰ کا منظر تھا۔ میں نے ہر لاشیں بکھری ہوئی دیکھیں اور زخمیوں کو وہاں موجود ایمبولیسنوں میں ڈالا جا رہا تھا۔ مجھے بھی اٹھا کر ایک بڑے نجی اسپتال منتقل کردیا گیا، مگر وہاں افراتفری کا ماحول تھا، اور کوئی ڈاکٹر میری طرف متوجہ نہیں ہورہا تھا۔ اسی عالم میں تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا اور پھر میرا بھائی اور چند صحافی مجھ تک پہنچ گئے۔ وہاں سے مجھے ایک دوسرے اسپتال منتقل کیا گیا۔

سانحۂ کار ساز کا ماسٹر مائنڈ کون تھا اور یہ سب کیسے ممکن ہوا؟ پولیس کسی ٹھوس نتیجے پر نہ پہنچ سکی۔ پولیس اسے ایک خود کش حملہ قرار دیتی ہے۔ یہ ایک دہرا حملہ تھا، پہلے ایک چھوٹا گرنیڈ پھینکا گیا۔ اس طرح افراتفری پھیلا کر بے نظیر کے استقبالیہ ٹرک کے گرد موجود جانثارانِ بے نظیر کی توجہ ہٹانا اور ان کی صف کو توڑنا مقصود تھا۔ مگر وہ اپنی جان پر کھیل گئے اور خود کش بمبار ان کی سواری تک پہچنے میں ناکام ہوگیا۔ فارنزک رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ اس حملے میں آر ڈی ایکس استعمال ہوا تھا۔ جس کے ساتھ اسٹیل بال بیئرنگ، پیچ اور کیلیں بھی استعمال کی گئی تھیں تاکہ زیادہ سے زیادہ جانی نقصان کیا جاسکے۔

بعد ازاں تحقیقاتی اداروں کی رپورٹ میں لکھا گیا کہ کار ساز کے مقام پر اسٹریٹ لائٹیں بجھا دی گئی تھیں۔ اندھیرے کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنا مشکل ہوگیا تھا جن میں دہشت گرد اور مشکوک افراد بھی شامل تھے۔ دھماکے کے اہم شواہد، ڈی این اے نمونے اور خود کش بمبار کے اعضاء بھی ضائع ہو گئے۔

اس سانحے کی اعلیٰ سطح پر تین تحقیقات کی گئیں۔ پرویز مشرف حکومت نے جسٹس (ر) منیر اے شیخ کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن قائم کیا تھا جسے پیپلز پارٹی نے مسترد کردیا اور یوں‌ یہ کمیشن غیر فعال ہوگیا۔ سندھ پولیس اور جے آئی ٹی کی تحقیقات میں کالعدم تنظیموں پر اس کا الزام عائد کیا گیا۔ ایک تنظیم کے فرد کی گرفتاری بھی عمل میں آئی مگر پولیس اس کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کرسکی اور اسی لئے وہ رہا ہوگیا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے 2012ء میں جے آئی ٹی تشکیل دی۔ مگر اس مرحلے پر بھی کوئی نئی بات سامنے نہ آسکی۔ پاکستان کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کرنے والے اس سانحے کو 19 سال گزر چکے ہیں، مگر آج بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آخر متعلقہ ادارے پاکستان میں سیاسی قتل اور حادثات کے منصوبہ سازوں تک کیوں نہیں پہنچ پاتے۔

میں سمجھتا ہوں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قافلے پر حملہ ان کے لیے ایک دھمکی تھی اور اس کا مقصد بے نظیر بھٹو کو ملکی سیاست میں سرگرم ہونے سے روکنا اور انہیں محدود کرنا تھا۔ مگر بے نظیر بھٹو نے حملے کے منصوبہ سازوں کی خواہش کے برخلاف شدت سے اپنی انتخابی مہم شروع کی اور پھر 27 دسمبر کو وہ ہولناک واقعہ رونما ہوا جس نے ملکی سیاست کی تاریخ میں ایک اور تاریک باب کا اضافہ کر دیا۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں