چائے کی ایک پیالی نہ صرف پینے میں بہت لطف دیتی ہے بلکہ ایک طویل عرصے سے اسے صحت کے فوائد سے بھی وابستہ کیا جاتا رہا ہے، جن میں دل کی بیماری، فالج اور ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی شامل ہے۔ اب بدھ کے روز ’جرنل آف انٹرنل میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ لوگ چائے کیسے تیار کرتے اور پیتے ہیں، اس سے بھی ان کی قلبی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
تقریباً 9 سال کے عرصے کے دوران محققین نے دل اور خون کی شریانوں کو متاثر کرنے والی بیماریوں کے 14,800 سے زیادہ واقعات ریکارڈ کیے۔ ان میں دل کے دورے، فالج اور شریانی بیماری شامل تھیں، جس میں بازوؤں اور ٹانگوں کو خون فراہم کرنے والی شریانیں تنگ ہو جاتی ہیں۔
محققین نے 30 سے 79 سال کی عمر کے 485,000 سے زیادہ چینی بالغ افراد کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا۔ شرکا نے چائے پینے کی اپنی عادات کے بارے میں بتایا، جن میں یہ بھی شامل تھا کہ وہ کتنی بار چائے پیتے ہیں، کس قسم کی چائے پسند کرتے ہیں، اسے کتنی گاڑھی بناتے ہیں اور کس درجۂ حرارت پر پیتے ہیں۔
محققین نے پایا کہ آپ چائے کیسے پیتے ہیں، اس سے یہ طے ہو سکتا ہے کہ آپ کو دل کی صحت کے فوائد حاصل ہوں گے یا نہیں۔ اس تحقیق کے نتائج اور دل کی صحت کے لیے ان کے مفہوم کو سمجھنے کے لیے سی این این کی ماہرِ صحت ڈاکٹر لیانا وین سے کی گئی بات چیت یہاں دی جا رہی ہے۔ وہ ایمرجنسی فزیشن اور جارج واشنگٹن یونیورسٹی میں کلینیکل ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، اور بالٹیمور کی ہیلتھ کمشنر بھی رہ چکی ہیں۔
چائے کے استعمال اور قلبی امراض کے تعلق سے اس نئی تحقیق میں کیا سامنے آیا؟
ڈاکٹر لیانا وین: ایک اہم نتیجہ یہ تھا کہ جو لوگ ہفتے میں کم از کم تین دن چائے پیتے تھے، ان میں ویسکولر بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں تقریباً 11 فی صد کم تھا، جو اس سے کم وقفوں سے چائے پیتے تھے۔
ایک اور دل چسپ نتیجہ یہ دیکھا گیا کہ جو لوگ کم گاڑھی چائے پیتے تھے ان میں خطرہ کم تھا۔ سبز چائے کے مقابلے میں کالی چائے پینے والوں میں قلبی امراض کا خطرہ کم دیکھا گیا۔
اے ڈی ایچ ڈی کے مریضوں کیلیے خطرے کی گھنٹی؟ تحقیق میں اہم انکشاف
شاید سب سے زیادہ حیران کن بات یہ تھی کہ جن لوگوں نے بتایا کہ وہ چائے ’’انتہائی کھولتی ہوئی گرم‘‘ حالت میں پیتے ہیں، ان میں ویسکولر بیماری کا خطرہ ان لوگوں کے مقابلے میں 16 فی صد زیادہ تھا جو باقاعدگی سے چائے نہیں پیتے تھے۔
اس کے برعکس، کمرے کے درجۂ حرارت پر یا گرم، مگر منہ جلانے والی حد تک گرم نہ ہونے والی چائے پینے والوں میں باقاعدگی سے چائے نہ پینے والوں کے مقابلے میں یہ خطرہ نمایاں طور پر کم تھا۔
اس نتیجے میں عمر، تمباکو نوشی، جسمانی سرگرمی، وزن اور پہلے سے موجود طبی مسائل سمیت مختلف عوامل کو بھی مدنظر رکھا گیا تھا۔ تاہم، جو لوگ تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے، معمول کے مطابق چائے پیتے تھے اور جسمانی طور پر زیادہ متحرک تھے، ان میں قلبی امراض کا خطرہ سب سے کم تھا۔
چائے پینا دل کی صحت کے لیے کس طرح فائدہ مند ہے؟
وین: چائے میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ایسے مرکبات موجود ہوتے ہیں جنھیں پولی فینولز (Polyphenols) کہا جاتا ہے۔ ان میں فلیوونائڈز (Flavonoids) بھی شامل ہیں، جن میں تکسیدی عمل کے خلاف مزاحمت (Antioxidant) اور سوزش کم کرنے کی خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ مرکبات خون کی شریانوں کی اندرونی سطح کو ڈھانپنے والے خلیات کے تحفظ میں مدد دے سکتے ہیں اور شریانوں کے پھیلنے اور سکڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ اس سے بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے اور دل پر پڑنے والا دباؤ گھٹ سکتا ہے۔
بعض مطالعات سے پتا چلا ہے کہ چائے پینے سے بلڈ پریشر، کولیسٹرول کی سطح اور قلبی صحت کے دیگر اشاریوں میں معمولی بہتری آ سکتی ہے۔ یہ اثرات اس بات کی وضاحت کرنے میں مدد دے سکتے ہیں کہ باقاعدگی سے چائے پینے والے افراد میں فالج، دل کے دورے اور قلبی امراض کے دیگر سنگین نتائج کی شرح کم کیوں ہوتی ہے۔
چائے کا ایک بالواسطہ فائدہ بھی ہو سکتا ہے، جب لوگ کسی دوسرے مشروب، مثلاً جوس ڈرنکس، سوڈا یا دیگر میٹھے مشروبات کی بہ جائے بغیر شکر والی چائے کا انتخاب کرتے ہیں۔ شکر ملے مشروبات کی جگہ بغیر شکر والی چائے پینے سے اضافی شکر کا استعمال کم ہو جاتا ہے، جو وزن کو قابو میں رکھنے اور میٹابولک صحت بہتر بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس طرح قلبی امراض کا خطرہ مزید کم ہو سکتا ہے۔
کیا چائے کی قسم سے فرق پڑتا ہے، یعنی کالی چائے اور سبز چائے میں سے کون سی بہتر ہے؟
وین: کالی چائے اور سبز چائے دونوں ایک ہی پودے کیمیلیا سائنینسس (Camellia sinensis) سے حاصل ہوتی ہیں، تاہم پتوں کو پراسیس کرنے کے طریقوں میں فرق کے باعث ان میں پولی فینولز کی ترکیب مختلف ہو جاتی ہے۔ سابقہ مطالعات میں دونوں اقسام کی چائے کے فوائد سامنے آئے ہیں۔ اس تحقیق میں کالی چائے کا تعلق قلبی امراض کے کم خطرے سے زیادہ مستقل طور پر سامنے آیا، تاہم سبز چائے کے فوائد بھی دیکھے گئے۔
میں سبز چائے پسند کرنے والے کسی شخص کو یہ مشورہ نہیں دوں گی کہ وہ اسے چھوڑ کر کالی چائے پینا شروع کر دے، یا اس کے برعکس۔ دونوں اقسام دل کے لیے صحت بخش غذا کا حصہ بن سکتی ہیں، خصوصاً اس صورت میں جب لوگ انھیں اضافی شکر کے بغیر پینے کا خیال رکھیں۔
لوگوں کو روزانہ کتنی چائے پینی چاہیے؟ کیا چائے ضرورت سے زیادہ پینا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے؟
وین: تحقیق میں شامل ان شرکا میں، جو ہفتے میں کم از کم ایک بار چائے پیتے تھے، ویسکولر بیماری کا اندازاً سب سے کم خطرہ روزانہ تقریباً 6 سے 8 پیالی چائے پینے والوں میں دیکھا گیا۔ تاہم، اس مقدار سے بہت زیادہ چائے پینے کی صورت میں خطرہ دوبارہ بڑھنے لگا۔
لوگوں کو اس نتیجے کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ ہر شخص کو روزانہ چھ سے آٹھ پیالی چائے پینے کا ہدف مقرر کر لینا چاہیے۔ درحقیقت، مختلف وجوہ کی بنا پر اس تحقیق کے نتائج کو اپنی عادات پر لاگو کرتے ہوئے احتیاط کرنی چاہیے۔ ان وجوہ میں یہ بات بھی شامل ہے کہ محققین نے پیالی کے حجم کا کوئی یکساں معیار مقرر نہیں کیا اور ان کے اندازے شرکا کی جانب سے خود فراہم کردہ معلومات پر مبنی تھے۔ خود تحقیق کے مصنفین نے بھی خاص طور پر خبردار کیا کہ اس نتیجے کو چائے کے استعمال کی بہترین تجویز کردہ مقدار نہ سمجھا جائے۔
احتیاط کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ چائے میں کیفین بھی موجود ہوتی ہے۔ 8 اونس (تقریباً 237 ملی لیٹر) کالی چائے کے ایک پیالی میں عموماً 30 سے 50 ملی گرام کیفین ہوتی ہے۔ سبز چائے میں عام طور پر اس سے کم کیفین ہوتی ہے، تاہم بیش تر اقسام کیفین سے مکمل طور پر پاک نہیں ہوتیں، اِلّا یہ کہ ان کے لیبل پر واضح طور پر ایسا درج ہو۔
امریکی ادارۂ خوراک و ادویات کے مطابق، روزانہ 400 ملی گرام کیفین کی مقدار عموماً ایسے مضر اثرات سے وابستہ نہیں ہوتی جنھیں خطرناک سمجھا جائے۔ حاملہ افراد کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ روزانہ کیفین کی مقدار 200 ملی گرام تک محدود رکھیں، جب کہ بچوں کو کیفین والے مشروبات استعمال نہیں کرنے چاہیئں۔
باقاعدگی سے چائے پینے والوں کے لیے آپ کا کیا مشورہ ہے؟
وین: عملی طور پر لوگوں کو ایسی گرم چائے پینے سے گریز کرنا چاہیے جو ان کے منہ یا گلے کو جلا سکتی ہو۔ بار بار انتہائی گرم مشروبات پینے کا تعلق غذائی نالی کے سرطان کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بھی جوڑا گیا ہے۔ چائے کو اتنا ٹھنڈا ہونے دینا کہ اسے آرام سے گھونٹ گھونٹ پیا جا سکے، جلنے سے بچا سکتا ہے اور ممکنہ طور پر دل کی صحت کے لیے اس کے فوائد برقرار رکھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے۔
لوگ اپنی پسند کے مطابق بغیر شکر والی کالی، سبز یا دوسری اقسام کی چائے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ انھیں روزانہ استعمال ہونے والی کیفین کی مجموعی مقدار کا بھی خیال رکھنا چاہیے، خصوصاً اگر انھیں نیند کے مسائل، بے چینی یا دل کی دھڑکن غیر معمولی طور پر تیز یا محسوس ہونے کی شکایت ہو۔
جو لوگ فی الحال چائے نہیں پیتے، ان کے لیے پینا شروع کرنا ضروری نہیں۔ قلبی امراض کے خطرے کو کم کرنے کے کئی ایسے طریقے موجود ہیں جن کی افادیت سائنسی شواہد سے ثابت ہو چکی ہے۔ ان میں باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی اختیار کرنا، تمباکو نوشی سے گریز کرنا، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کو صحت مند حدود میں برقرار رکھنا اور غذائیت سے بھرپور متوازن غذا کھانا شامل ہیں۔



