مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر نے سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں انہوں نے 10 روپے کا کرنسی نوٹ بند کرنے کی سفارش کی ہے۔
اجلاس میں بینک کے اے ٹی ایمز سے 5000 اور 1000 روپے کے جعلی نوٹوں کی ترسیل کی اطلاعات پر بھی سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ڈپٹی گورنر نے کمیٹی کو نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے جاری عمل کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے نئے نوٹوں کے ڈیزائن اور اجرا کی نگرانی کے لیے وزیر خزانہ کی سربراہی میں ایک وزارتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزارتی کمیٹی نے ڈیزائن کی منظوری دے دی ہے اور اسٹیٹ بینک اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ نئے نوٹ مطلوبہ حفاظتی معیارات پر پورا اتریں۔
ڈپٹی گورنر نے کہا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد بھی نئے نوٹ متعارف ہونے میں مزید ایک سال لگ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک نے 10 روپے کا نوٹ بند کرنے کی سفارش کی ہے جب کہ نئے کرنسی نوٹوں کی مالیت کا فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی۔



